خطے میں تیزی سے بدلتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال کے درمیان ایران کے اندر ڈیجیٹل رابطوں پر غیر معمولی پابندیوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ عالمی سطح پر انٹرنیٹ کی نگرانی کرنے والے ادارے NetBlocks نے انکشاف کیا ہے کہ ملک میں آن لائن رسائی تقریباً مکمل طور پر معطل کر دی گئی ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی جب اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کا آغاز ہوا، جس کے بعد داخلی سطح پر مواصلاتی ڈھانچے میں نمایاں تبدیلی دیکھی گئی۔
نیٹ بلاکس کے مطابق نیٹ ورک ٹریفک کے تجزیاتی ڈیٹا سے واضح ہوتا ہے کہ ایران بھر میں انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی اچانک اور وسیع پیمانے پر کم ہو گئی۔ ادارے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری کردہ اپنے بیان میں کہا کہ حقیقی وقت کے اعداد و شمار اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ملک کے بیشتر حصوں میں ڈیجیٹل سرگرمیاں شدید متاثر ہوئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق صورتحال اس حد تک پہنچ گئی کہ عمومی صارفین کے لیے عالمی ویب تک رسائی تقریباً ناممکن ہو کر رہ گئی۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کی بندش عام تکنیکی خرابی نہیں بلکہ ایک منظم اقدام محسوس ہوتی ہے، جس کا مقصد داخلی معلومات کے بہاؤ کو محدود کرنا اور سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر رابطوں کو کنٹرول میں رکھنا ہو سکتا ہے۔ نیٹ بلاکس نے اپنے تجزیے میں اس صورتحال کا موازنہ اس سے قبل ہونے والی اسی نوعیت کی پابندیوں سے کیا، جو گزشتہ برس اسرائیل کے ساتھ کشیدگی کے دوران دیکھنے میں آئی تھیں۔ اس موازنہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ ایران میں ہنگامی حالات کے دوران انٹرنیٹ تک رسائی محدود کرنا ایک طے شدہ حکمت عملی کا حصہ ہو سکتا ہے۔
ڈیجیٹل ماہرین کے مطابق جب کسی ملک میں انٹرنیٹ ٹریفک اچانک گر جائے تو اس کے متعدد اثرات سامنے آتے ہیں۔ نہ صرف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز متاثر ہوتے ہیں بلکہ بینکاری، ای کامرس، تعلیمی سرگرمیاں اور سرکاری آن لائن خدمات بھی شدید دباؤ کا شکار ہو جاتی ہیں۔ ایران جیسے ملک میں، جہاں بڑی تعداد میں لوگ روزمرہ کے معاملات کے لیے آن لائن سروسز پر انحصار کرتے ہیں، ایسی بندش شہری زندگی کو براہِ راست متاثر کر سکتی ہے۔
عالمی برادری میں انٹرنیٹ شٹ ڈاؤن کو اکثر ہنگامی یا سیکیورٹی اقدامات کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے۔ بعض حکومتیں اسے افواہوں، غلط معلومات یا ممکنہ افراتفری کو روکنے کے لیے استعمال کرتی ہیں، جبکہ انسانی حقوق کی تنظیمیں اسے اظہارِ رائے اور معلومات تک رسائی کے بنیادی حق کے خلاف سمجھتی ہیں۔ ایران میں حالیہ پابندی نے ایک بار پھر اس بحث کو جنم دیا ہے کہ سیکیورٹی اور شہری آزادیوں کے درمیان توازن کس طرح قائم رکھا جائے۔
نیٹ بلاکس جیسے ادارے دنیا بھر میں ڈیجیٹل آزادی اور نیٹ ورک کی شفافیت کی نگرانی کرتے ہیں۔ ان کے اعداد و شمار عام طور پر عالمی میڈیا، تحقیقی اداروں اور پالیسی سازوں کے لیے اہم حوالہ بنتے ہیں۔ ایران کے حوالے سے جاری کی گئی تازہ معلومات نے اس خدشے کو تقویت دی ہے کہ خطے میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی کا اثر صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں بلکہ سائبر اور مواصلاتی ڈھانچے تک بھی پھیل چکا ہے۔
ذرائع کے مطابق انٹرنیٹ کی رفتار میں کمی اور کنیکٹیویٹی کی معطلی یکساں طور پر پورے ملک میں محسوس کی گئی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ اقدام مقامی سطح تک محدود نہیں تھا۔ بعض صارفین نے وی پی این یا متبادل ذرائع کے ذریعے رسائی کی کوشش کی، تاہم عمومی طور پر عالمی نیٹ ورک سے رابطہ شدید متاثر رہا۔ اس صورتحال نے بیرونِ ملک مقیم ایرانیوں کے لیے بھی اپنے اہل خانہ سے رابطہ کرنا مشکل بنا دیا۔
ماہرین اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جدید تنازعات میں معلومات کا بہاؤ ایک اہم عنصر بن چکا ہے۔ حکومتیں اکثر حساس حالات میں معلومات کی ترسیل کو محدود کر کے بیانیے پر کنٹرول برقرار رکھنے کی کوشش کرتی ہیں۔ ایران میں حالیہ بندش بھی اسی تناظر میں دیکھی جا رہی ہے، جہاں عسکری کارروائیوں کے آغاز کے فوراً بعد آن لائن سرگرمیوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔
نیٹ بلاکس نے اپنے بیان میں اس امر پر زور دیا کہ دستیاب نیٹ ورک میٹرکس واضح طور پر ایک بڑے پیمانے کی رکاوٹ کی عکاسی کرتے ہیں۔ ادارے نے کہا کہ ڈیٹا کے مطابق کنیکٹیویٹی تقریباً مکمل طور پر منقطع ہو چکی ہے، جو ایک غیر معمولی صورتحال ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی یاد دلایا کہ ماضی میں بھی ایران نے علاقائی کشیدگی کے دوران اسی نوعیت کے اقدامات اختیار کیے تھے۔
ڈیجیٹل معیشت کے ماہرین کے مطابق طویل دورانیے کی انٹرنیٹ بندش نہ صرف سماجی روابط کو متاثر کرتی ہے بلکہ کاروباری سرگرمیوں کو بھی نقصان پہنچاتی ہے۔ آن لائن ادائیگیوں، درآمد و برآمد کے ڈیجیٹل نظام، اور بین الاقوامی مالیاتی لین دین میں رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے۔ اگر بندش طویل رہی تو اس کے معاشی اثرات نمایاں ہو سکتے ہیں۔
انسانی حقوق کے حلقوں نے ایسے اقدامات پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ معلومات تک رسائی شہریوں کا بنیادی حق ہے۔ ان کے مطابق کسی بھی سیکیورٹی اقدام کو شفافیت اور تناسب کے اصولوں کے تحت ہونا چاہیے۔ تاہم حکومتوں کا مؤقف عموماً یہ ہوتا ہے کہ قومی سلامتی اور عوامی تحفظ کو اولین ترجیح دی جاتی ہے۔
ایران میں جاری کشیدگی کے پس منظر میں انٹرنیٹ کی معطلی اس بات کی علامت سمجھی جا رہی ہے کہ تنازع اب روایتی جنگی محاذوں سے آگے بڑھ کر ڈیجیٹل دائرے تک پھیل چکا ہے۔ اطلاعات کے مطابق جیسے ہی فوجی کارروائیوں کی خبریں سامنے آئیں، نیٹ ورک ٹریفک میں تیزی سے کمی دیکھنے میں آئی، جو بعد ازاں تقریباً مکمل تعطل میں تبدیل ہو گئی۔
