مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی ہوئی صورتحال نے ایک بار پھر عالمی سیاست کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ حالیہ پیش رفت میں ایران سے ایسی خبر سامنے آئی جس نے نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کرلی۔ ایرانی سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق ملک کی اعلیٰ ترین مذہبی و سیاسی شخصیت، سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای، حالیہ حملوں کے دوران جاں بحق ہوگئے۔ اس اطلاع کے منظر عام پر آتے ہی ایران بھر میں سوگ کی فضا طاری ہوگئی جبکہ عالمی سطح پر بھی مختلف حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ایران پر امریکی اور اسرائیلی افواج کی جانب سے بحری اور فضائی کارروائیاں کی گئیں۔ بتایا جاتا ہے کہ ہفتے کے روز ہونے والی ان کارروائیوں میں سپریم لیڈر کو نشانہ بنایا گیا اور وہ اپنے دفتر کے احاطے میں موجود تھے جب حملہ ہوا۔ سرکاری اطلاعات کے مطابق ان کی وفات اسی مقام پر ہوئی جہاں وہ سرکاری امور انجام دے رہے تھے۔
اس سانحے کے فوراً بعد ایرانی حکومت نے ملک میں سات روزہ عام تعطیل اور چالیس روزہ سوگ کا اعلان کیا۔ سرکاری سطح پر تمام تقریبات منسوخ کردی گئیں، قومی پرچم سرنگوں کردیا گیا اور ملک بھر کی مساجد اور سرکاری عمارات پر سیاہ پرچم لہرائے گئے۔ ایرانی عوام کی بڑی تعداد سڑکوں پر نکل آئی اور مختلف شہروں میں تعزیتی اجتماعات منعقد کیے گئے۔ تہران، قم، مشہد اور اصفہان سمیت کئی بڑے شہروں میں سکیورٹی ہائی الرٹ کردی گئی۔
دوسری جانب اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے بھی دعویٰ کیا کہ انہیں ایرانی سپریم لیڈر کی میت سے متعلق شواہد موصول ہوئے ہیں۔ بعض رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا کہ ایک تصویر امریکی صدر کو دکھائی گئی، جس کے بارے میں دعویٰ کیا گیا کہ وہ خامنہ ای کی لاش کی ہے۔ تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہوسکی۔ برطانوی میڈیا نے بھی اسرائیلی حکام کے حوالے سے خبر نشر کی کہ ایرانی سپریم لیڈر کی لاش برآمد ہوگئی ہے، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی۔
اسرائیل کے وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ ایسے اشارے مل رہے ہیں کہ ایرانی قیادت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے عندیہ دیا کہ ایران کی اعلیٰ قیادت اور پاسدارانِ انقلاب کے اہم عہدیدار بھی ان حملوں میں مارے گئے ہیں۔ ان کے مطابق ایرانی سپریم لیڈر کے کمپاؤنڈ کو نشانہ بنایا گیا اور جوہری پروگرام سے وابستہ بعض سینئر شخصیات بھی ہلاک ہوئیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران کے خلاف کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک اسرائیل کو اپنے مقاصد کے حصول کا یقین نہ ہوجائے۔
خبر رساں اداروں کے مطابق ان حملوں میں ایرانی وزیر دفاع امیر ناصر زادہ اور پاسدارانِ انقلاب کے سربراہ محمد پاکپور بھی جاں بحق ہوئے۔ ایرانی حکام نے ان اموات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ کارروائیاں ایران کی خودمختاری پر حملہ ہیں اور ان کا جواب مناسب وقت پر دیا جائے گا۔ ایرانی وزارتِ صحت کے ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق ان حملوں میں کم از کم 201 شہری جان سے گئے جبکہ 747 افراد زخمی ہوئے، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔
امریکی اور اسرائیلی افواج کی جانب سے کی جانے والی کارروائیاں بیک وقت بحری اور فضائی نوعیت کی تھیں۔ اطلاعات کے مطابق ایران کے مختلف عسکری اور حساس مقامات کو نشانہ بنایا گیا، جن میں دفاعی تنصیبات، میزائل بیس اور بعض جوہری مراکز شامل تھے۔ ان حملوں کے بعد ایران نے اپنے فضائی دفاعی نظام کو مکمل طور پر فعال کردیا اور سرحدی علاقوں میں فوجی تعیناتی بڑھادی گئی۔
ایرانی قیادت کی جانب سے جاری بیانات میں کہا گیا کہ ملک اس مشکل گھڑی میں متحد ہے اور بیرونی جارحیت کے خلاف بھرپور مزاحمت کی جائے گی۔ سپریم لیڈر کی شہادت کو “قومی سانحہ” قرار دیتے ہوئے حکام نے کہا کہ ان کی جدوجہد اور نظریات کو جاری رکھا جائے گا۔ مذہبی رہنماؤں اور سیاسی شخصیات نے اسے ایران کی خودمختاری پر براہِ راست حملہ قرار دیا اور عالمی برادری سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا۔
عالمی سطح پر بھی اس واقعے پر ردعمل سامنے آیا ہے۔ بعض ممالک نے کشیدگی کم کرنے کی اپیل کی ہے جبکہ اقوامِ متحدہ میں ہنگامی مشاورت کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر صورتحال پر قابو نہ پایا گیا تو یہ تنازع وسیع علاقائی جنگ میں تبدیل ہوسکتا ہے، جس کے اثرات عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں پر بھی مرتب ہوں گے۔
ایران کے اندر سیاسی منظرنامہ بھی غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے۔ سپریم لیڈر کے منصب کے حوالے سے آئینی طریقہ کار کے تحت مجلسِ خبرگان کو نیا رہنما منتخب کرنا ہوگا۔ اس عمل کے دوران ملک میں سیاسی سرگرمیاں تیز ہوسکتی ہیں اور مختلف دھڑے اپنی حمایت کے لیے متحرک ہوسکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ مرحلہ ایران کی داخلی سیاست کے لیے نہایت اہم ثابت ہوگا۔
خطے کے دیگر ممالک بھی اس پیش رفت کو گہری نظر سے دیکھ رہے ہیں۔ خلیجی ریاستوں میں سکیورٹی انتظامات سخت کردیئے گئے ہیں جبکہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ دیکھا جارہا ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ اگر ایران اور اسرائیل کے درمیان براہِ راست تصادم بڑھا تو اس کے اثرات عالمی امن پر بھی پڑسکتے ہیں۔
یہ واقعہ مشرقِ وسطیٰ کی تاریخ کا ایک اہم موڑ قرار دیا جارہا ہے۔ ایرانی سپریم لیڈر کی ہلاکت کی خبر نے عالمی سیاست میں نئی بحث چھیڑ دی ہے اور آنے والے دنوں میں حالات کس سمت جاتے ہیں، اس کا انحصار سفارتی کوششوں، عسکری حکمت عملی اور عالمی ردعمل پر ہوگا۔ ایران میں جاری سوگ اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اس امر کی غمازی کرتی ہے کہ حالات انتہائی نازک مرحلے میں داخل ہوچکے ہیں۔
