امریکہ اوراسرائیل کی جانب سے ایران پرمبینہ حملوں اور ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کی ایرانی سرکاری میڈیا پر نشر ہونے والی خبر کے بعد کراچی میں صورتحال کشیدہ ہوگئی۔ مشتعل مظاہرین نے شہر کے حساس علاقے میں قائم امریکی قونصل خانہ کراچی کی جانب مارچ کیا اور اندر داخل ہونے کی کوشش کی، جس کے دوران پولیس اور رینجرز کے ساتھ شدید جھڑپیں ہوئیں۔
تصادم کیسے شروع ہوا؟عینی شاہدین کے مطابق احتجاجی ریلی مائی کولاچی کے قریب پہنچی تو مظاہرین نے قونصل خانے کی عمارت کی طرف پیش قدمی کی۔ اس دوران بعض افراد کی جانب سے پتھراؤ کیا گیا، جس پر سکیورٹی اہلکاروں نے آنسو گیس کے شیل فائر کیے اور لاٹھی چارج کیا۔ علاقے میں بھگدڑ مچ گئی اور فضا آنسو گیس سے بھر گئی۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے کم سے کم طاقت استعمال کی گئی، تاہم صورتحال اس وقت قابو سے باہر ہوئی جب ہجوم نے رکاوٹیں توڑنے کی کوشش کی۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق جھڑپوں کے نتیجے میں اب تک 8 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں جبکہ 24 سے زائد زخمیوں کو فوری طور پر سول اسپتال کراچی کے ٹراما سینٹر منتقل کیا گیا۔ اسپتال حکام کے مطابق زخمیوں میں سے کئی کو فائرنگ، لاٹھی چارج اور دھکم پیل کے باعث چوٹیں آئیں۔
اسپتال ذرائع نے بتایا کہ بعض زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے، جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ بھی موجود ہے۔
شہر کا ٹریفک نظام احتجاج کے باعث مفلوج ہوچکاہےاحتجاج کےباعث شہر میں اہم شاہراہوں کاٹریفک نظام درہم برہم ہوگیا۔ ٹریفک پولیس کے مطابق سلطان آباد سے مائی کولاچی جانے والی سڑک مکمل بند کردی گئی۔دوسری جانب بوٹ بیسن سے آنے والی گاڑیوں کو مائی کولاچی پھاٹک سے یوٹرن کروایا جا رہا ہے۔جبکہ پی آئی ڈی سی سے آنے والی ٹریفک کو پارک کٹ کے مقام سے واپس بھیجا جا رہا ہے۔اطراف کے علاقوں میں ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہےملازمین اور طلبہ کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جبکہ متعدد دفاتر میں حاضری کم رہی۔
شہر میں سکیورٹی ہائی الرٹ کردی گئی ہے۔ حساس مقامات پر اضافی نفری تعینات کردی گئی ہے جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے صورتحال پر قابو پانے کا دعویٰ کیا ہے۔
سیاسی و مذہبی جماعتوں کی جانب سے ایران پر حملوں کی مذمت کی جارہی ہے اور آئندہ دنوں میں مزید احتجاجی مظاہروں کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے
ایرانی سرکاری میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی و اسرائیلی حملوں میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای شہید ہوگئے ہیں، تاہم اس حوالے سے عالمی سطح پر آزاد ذرائع سے تصدیق تاحال سامنے نہیں آئی۔ اس خبر کے بعد نہ صرف ایران بلکہ خطے کے مختلف ممالک میں بھی ردعمل دیکھنے میں آرہا ہے۔
کراچی میں پیش آنے والا یہ واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ عالمی سیاسی کشیدگی کے اثرات مقامی سطح پر بھی شدت اختیار کرسکتے ہیں۔ صورتحال بدستور کشیدہ ہے اور شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور انتظامیہ کی ہدایات پر عمل کریں۔
