ایران پر امریکا اور اسرائیل کے مبینہ حملوں کے بعد صورتحال انتہائی کشیدہ ہوگئی ہے، جبکہ برطانوی خبر ایجنسی نے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ ان حملوں میں ایرانی وزیردفاع امیر نصیر زادہ اور ایرانی پاسداران انقلاب کے سربراہ محمد پاکپور شہید ہوگئے ہیں۔
خبر ایجنسی کے مطابق یہ دعویٰ اسرائیلی فوجی کارروائیوں سے باخبر دو ذرائع اور ایک علاقائی ذریعے نے کیا ہے۔ تاہم ان اموات کی باضابطہ اور سرکاری سطح پر تصدیق تاحال سامنے نہیں آئی، جس کے باعث عالمی سطح پر غیر یقینی کی صورتحال برقرار ہے۔
آپریشن وعدہ صادق 4 ایران کی جوابی کارروائی کا آغازہوچکاہےایران نے امریکی اور اسرائیلی حملوں کے جواب میں اپنی جوابی کارروائی کو ’آپریشن وعدہ صادق 4‘ کا نام دے دیا ہے۔ ایرانی پاسداران انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ اس آپریشن کے تحت خطے میں موجود متعدد امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ بحرین میں موجود امریکی بحریہ کے ففتھ فلیٹ کو نشانہ بنایا گیا۔قطر اور متحدہ عرب امارات میں قائم امریکی فوجی تنصیبات پر حملے کیے گئے۔مقبوضہ فلسطینی علاقوں (اسرائیل) کے مرکزی فوجی اہداف کو بھی ٹارگٹ کیا گیا۔
بحرین میں تعینات امریکی بحریہ کا United States Fifth Fleet خطے میں امریکا کی ایک اہم عسکری قوت تصور کیا جاتا ہے، جسے نشانہ بنانے کا دعویٰ عالمی سطح پر تشویش کا باعث بن سکتا ہے۔
ایرانی پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی "امریکی فوج اور صہیونی حکومت” کے خلاف کی جارہی ہے اور اس کے تحت "جارح دشمن کے علاقائی اہداف” کو مسلسل نشانہ بنایا جائے گا۔
انہوں نے واضح کیا ہے کہ ایران کی مسلح افواج کی جانب سے میزائل اور ڈرون حملے جاری رہیں گے اور یہ سلسلہ اس وقت تک نہیں رکے گا جب تک ایران کے خلاف کارروائیوں کا جواب مکمل نہ دےدیاجائے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر ایرانی وزیردفاع اور پاسداران انقلاب کے سربراہ کی شہادت کی باضابطہ تصدیق ہوجاتی ہے تو یہ ایران کی عسکری قیادت پر براہ راست بڑا حملہ تصور ہوگا، جس کے نتیجے میں مشرق وسطیٰ میں وسیع پیمانے پر تصادم کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
اب تک امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ان دعوؤں پر تفصیلی ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ عالمی برادری صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
یاد رہے کہ حالیہ دنوں میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کی اطلاعات سامنے آئی تھیں، جن میں ایرانی پاسداران انقلاب کے کئی سینئر کمانڈرز اور سیاسی شخصیات کے جاں بحق ہونے کے دعوے کیے گئے۔ اس کے جواب میں ایران کی جانب سے فوری اور سخت ردعمل دیا گیا ہے۔
خطے کی صورتحال لمحہ بہ لمحہ تبدیل ہو رہی ہے اور آئندہ چند گھنٹے عالمی سیاست کے لیے نہایت اہم قرار دیے جا رہے ہیں۔
