مشرقِ وسطیٰ کے حساس سمندری خطے میں اس وقت صورتحال انتہائی کشیدہ دکھائی دے رہی ہے جہاں ایران اور امریکا کے درمیان بیانات کی جنگ نے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے خطے میں موجود امریکی ائیرکرافٹ کیریئر USS Abraham Lincoln پر چار بیلسٹک میزائل داغے ہیں۔
ایرانی ذرائع کے مطابق یہ کارروائی "دفاعی حکمتِ عملی” کا حصہ تھی اور میزائلوں نے اپنے ہدف کو نشانہ بنایا۔ تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔
دوسری جانب امریکی فوج کی United States Central Command (سینٹرل کمانڈ) نے ان دعوؤں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی بحری بیڑے کو کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچا اور ایرانی میزائل بحری جہاز کے قریب تک نہیں آسکے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ خطے میں تعینات دفاعی نظام مکمل طور پر فعال ہے اور بحری بیڑے کی نقل و حرکت معمول کے مطابق جاری ہے۔ سینٹرل کمانڈ کے بیان میں کہا گیا کہ امریکی افواج ہر قسم کے خطرے سے نمٹنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہیں اور ہمارے اثاثے محفوظ ہیں۔
یو ایس ایس ابراہم لنکن امریکا کے جدید ترین اور طاقتور طیارہ بردار جہازوں میں شمار ہوتا ہے جو درجنوں لڑاکا طیارے، میزائل دفاعی نظام اور ہزاروں اہلکاروں کے ساتھ ایک مکمل بحری اسٹرائیک گروپ کی قیادت کرتا ہے۔ ایسے جہاز پر کسی بھی حملے کا دعویٰ عالمی سطح پر بڑی خبر تصور کیا جاتا ہے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق اگر واقعی بیلسٹک میزائل داغے گئے ہوں تو یہ خطے میں کشیدگی کے ایک نئے مرحلے کی علامت ہو سکتا ہے۔ تاہم امریکی تردید کے بعد صورتحال بیانات کی جنگ تک محدود دکھائی دے رہی ہے
مشرقِ وسطیٰ پہلے ہی مختلف تنازعات کا مرکز بنا ہوا ہے۔ ایسے میں ایران اور امریکا کے درمیان کسی بھی براہِ راست تصادم کے دعوے عالمی منڈیوں، تیل کی قیمتوں اور علاقائی سلامتی پر گہرے اثرات ڈال سکتے ہیں۔
تاحال کسی آزاد بین الاقوامی ادارے یا سیٹلائٹ شواہد سے اس حملے کی تصدیق سامنے نہیں آئی۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ آنے والے گھنٹوں میں مزید وضاحتیں سامنے آ سکتی ہیں جو صورتحال کو مزید واضح کریں گی۔
فی الحال یہ معاملہ ایرانی دعوے اور امریکی تردید کے درمیان الجھا ہوا ہے، جس نے خلیجی پانیوں میں ایک نئی سنسنی کو جنم دے دیا ہے۔
