امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ نے ایران کی حالیہ صورتحال پر ایک بڑا انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کی نئی قیادت ان کے ساتھ مذاکرات کی خواہاں ہے اور وہ اس کا جواب دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب خطہ مشرقِ وسطیٰ شدید کشیدگی کی لپیٹ میں ہے اور ایرانی سپریم لیڈر علی خامنائی کی ہلاکت کے بعد صورتحال غیر معمولی طور پر سنگین ہو چکی ہے۔
ٹرمپ نے فلوریڈا میں واقع اپنے نجی کلب Mar-a-Lago سے صبح ساڑھے نو بجے سے قبل ایک ٹیلیفونک گفتگو میں کہا کہ ایرانی قیادت بات چیت کرنا چاہتی ہے اور انہوں نے اس پر آمادگی ظاہر کر دی ہے۔ ان کا کہنا تھا، وہ بات کرنا چاہتے ہیں اور میں نے بات کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ انہیں یہ بہت پہلے کر لینا چاہیے تھا۔ انہوں نے عملی اور قابلِ عمل تجاویز پیش کرنے میں بہت دیر کر دی۔
جب ان سے ممکنہ مذاکرات کے وقت کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے جواب دینے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس بارے میں کچھ نہیں بتا سکتے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ حالیہ ہفتوں میں مذاکراتی عمل میں شامل بعض ایرانی عہدیدار اب زندہ نہیں رہےجن لوگوں سے ہم ڈیل کر رہے تھے، ان میں سے کچھ اب موجود نہیں ہیں۔ وہ ایک بڑا حملہ تھا، بہت بڑا حملہ۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے ویڈیو پیغام میں ایرانی عوام سے براہِ راست مخاطب ہوتے ہوئے موجودہ نظام کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کی اپیل بھی کی۔ انہوں نے کہا، اب آپ کے پاس ایک ایسا صدر ہے جو آپ کو وہ دیتا ہے جو آپ چاہتے ہیں۔ اب وقت ہے کہ اپنی تقدیر سنبھالیں اور اس خوشحال مستقبل کا آغاز کریں جو آپ کی پہنچ میں ہے۔تاہم جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ اگر ایران میں عوامی بغاوت شروع ہوتی ہے تو کیا امریکہ اپنی بمباری مہم کو طول دے گا، تو انہوں نے محتاط جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس وقت کی صورتحال دیکھ کر فیصلہ کریں گے۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کے اندر جشن کے مناظر دیکھےجارہےہیں جبکہ امریکا کے شہروں لاس اینجلس اورنیو یارک جلاوطن ایرانیوں کے اجتماعات میں خوشی کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا، یہ ہو کر رہے گا۔ میرا خیال ہے کہ ایک کامیاب بغاوت ہونے والی ہے۔
صدر ٹرمپ نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ آپریشن کے کچھ ہی دیر بعد امریکی فوج نے تین اہلکاروں کی ہلاکت اور پانچ کے شدید زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے، جو اس مہم میں امریکہ کا پہلا جانی نقصان ہے۔انہوں نے ایران کی جانب سے ماضی میں امریکی سرزمین پر سازشوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکی انٹیلی جنس ادارے برسوں سے ایران کی قیادت میں مبینہ قتل کی سازشوں کو ناکام بناتے رہے ہیں۔ تاہم جب ان سے حالیہ خطرات کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے تفصیلات بتانے سے انکار کر دیا۔
صدر ٹرمپ نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ ایران پر حملے کے اثرات امریکی معیشت یا آئندہ وسط مدتی انتخابات پر منفی پڑیں گے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی معیشت مضبوط ہے اور تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔تیل کی عالمی منڈیوں پر ممکنہ اثرات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اگر آپریشن کامیاب نہ ہوتا تو قیمتوں میں بڑا اضافہ ہو سکتا تھا، تاہم ان کے بقول صورتحال قابو میں ہے
انہوں نے ایران پر حملے کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا، لوگ 47 سال سے یہ کرنا چاہتے تھے۔ انہوں نے 47 سال تک لوگوں کو قتل کیا اور اب یہ معاملہ ان پر الٹ گیا ہے۔ایران میں اعلیٰ قیادت کی ہلاکت، ممکنہ عوامی بغاوت، امریکی فوجی جانی نقصان اور عالمی منڈیوں میں بے چینی یہ تمام عوامل مشرقِ وسطیٰ کو ایک نئے اور غیر یقینی دور میں داخل کر رہے ہیں۔اب دنیا کی نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا ایران کی نئی قیادت اور واشنگٹن کے درمیان ممکنہ مذاکرات کشیدگی کو کم کریں گے یا خطہ مزید کسی بڑے تصادم کی طرف بڑھے گا۔ صدر ٹرمپ کے الفاظ میں، "دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔
