تہران: ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ایک جارحانہ اور سخت بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ سپریم لیڈر علی خامنہ ای اور دیگر اعلیٰ ایرانی عہدیداروں کے قتل کا بدلہ لینا ایران کا ‘فرض اور جائز حق’ ہے۔
صدر پزشکیان نے اپنے تعزیتی بیان میں کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران اس تاریخی جرم کے ذمہ داروں اور ان کے حکم دینے والوں سے انصاف اور انتقام لینے کو اپنی قومی ذمہ داری سمجھتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران اس مقصد کے لیے اپنی تمام عسکری، سیاسی اور اقتصادی صلاحیتیں بروئے کار لائے گا تاکہ کوئی بھی ذمہ دار بچ نہ سکے۔
مسعود پزشکیان نے مرحوم رہنماؤں کے اہل خانہ اور پوری ایرانی قوم کے ساتھ تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایران اپنے شہریوں اور قیادت کے خلاف ہونے والے حملوں کو کبھی نظر انداز نہیں کرے گا۔ ان کے بیان نے عالمی برادری اور خطے کے ممالک کے درمیان تشویش پیدا کر دی ہے اور مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے نئے خدشات کو جنم دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق، ایرانی صدر کے انتقامی بیانات کے بعد خطے میں ممکنہ عسکری، اقتصادی اور سفارتی ردعمل کے خطرات بڑھ گئے ہیں۔ اگر ایران نے فوری طور پر اقدامات کیے تو اس کے اثرات نہ صرف ایران بلکہ پورے مشرق وسطیٰ اور عالمی طاقتوں کے تعلقات پر پڑ سکتے ہیں۔ اس موقع پر بین الاقوامی برادری کو محتاط رہنے اور سفارتی چینلز کھلے رکھنے کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔
مزید تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے انتقامی کارروائی نہ صرف اس کے داخلی موقف کو مضبوط کرے گی بلکہ خطے میں طاقت کے توازن کو بھی بدل سکتی ہے، جس سے عالمی سطح پر نئی سفارتی کشمکش پیدا ہونے کا امکان ہے۔
