ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ علی لاریجانی نے پیر کے روز اپنے ایک باقاعدہ اعلان میں واضح کیا کہ ایران امریکی اور اسرائیلی حکمت عملی کی تقلید نہیں کر رہا بلکہ اس نے خطے میں طویل المدتی جنگ کے لیے مکمل تیاری کر رکھی ہے۔ لاریجانی نے یہ بات سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر اپنے بیان میں کہی، جس میں انہوں نے زور دیا کہ ایران ہر ممکنہ صورتحال کے لیے تیار ہے اور اپنی سرحدوں اور عوام کی حفاظت کے لیے ہر قیمت پر پرعزم ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل نے ایک متواتر فوجی کارروائی کا آغاز کیا ہے۔ ان حملوں کا یہ تیسرا روز ہے، جس دوران ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای بمباری میں جاں بحق ہو چکے ہیں۔ امریکی فضائیہ اور بحریہ نے ایران کے گرد محاصرہ کر رکھا ہے، جس کا مقصد ایران کی عسکری اور اقتصادی صلاحیتوں کو محدود کرنا ہے۔ تاہم، ایران نے اس دباؤ اور محاصرے کے باوجود کسی قسم کا خوف یا کمزوری ظاہر نہیں کی اور خطے میں امریکی فوجی اڈوں اور دیگر اہم مراکز کو ہدف بنانے کی کوششیں جاری رکھی ہیں۔
علی لاریجانی نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ ایران کی فوج اور عسکری قیادت نے طویل جنگ کے لیے مکمل تیاری کر رکھی ہے، اور ایران کی حکمت عملی محض فوری ردعمل یا مختصر حملوں پر مبنی نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کی ترجیح اپنی خودمختاری اور ملکی سلامتی کا تحفظ ہے اور وہ کسی بھی جارحانہ اقدام کا جواب دینے سے نہیں ہچکچائے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران کی فوج اور عوام دونوں نے ہر ممکن وسائل کو مربوط کر کے ایک جامع دفاعی حکمت عملی تیار کر رکھی ہے۔
لاریجانی کے مطابق، ایران نے امریکہ اور اسرائیل کے طرز عمل سے سبق سیکھا ہے اور اس کی فوج کو طویل لڑائی کے تمام پہلوؤں کے لیے تیار کیا گیا ہے، چاہے وہ فضائی حملے ہوں، بحری کارروائیاں ہوں یا زمینی دفاعی اقدامات۔ ایران کی فوج نے خود کو جدید ٹیکنالوجی، جدید میزائل نظام، اور اسٹریٹجک پلاننگ کے حوالے سے بہتر بنایا ہے تاکہ کسی بھی جارحانہ اقدام کا مؤثر جواب دیا جا سکے۔
علی لاریجانی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اس وقت جاری جنگ صرف ایران اور اس کے دشمنوں تک محدود نہیں بلکہ اس کا اثر پورے خطے میں محسوس کیا جا رہا ہے۔ ایران کی طرف سے میزائل داغنے کے اقدامات اسرائیل پر بھی جاری ہیں، اور اس کے ساتھ ہی ایران نے امریکی فوجی اڈوں اور دیگر اہم تنصیبات کو بھی ہدف بنایا ہے۔ ان حملوں کی حکمت عملی اس بات کا عندیہ دیتی ہے کہ ایران خطے میں اپنے مفادات اور سلامتی کے لیے مکمل عزم کے ساتھ کھڑا ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران اپنے دفاعی اقدامات میں کسی بھی قسم کی جلد بازی یا عجلت نہیں برتے گا۔ طویل المدتی حکمت عملی کے تحت ایران کی فوج نے تربیت، وسائل کی تقسیم اور اسٹریٹجک پلاننگ کے ذریعے ہر ممکن صورتحال کے لیے تیاری مکمل کر لی ہے۔ علی لاریجانی نے مزید کہا کہ ایران نے اپنی داخلی اور خارجی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط کرنے کے لیے کئی دہائیوں کا تجربہ اور تکنیکی مہارت استعمال کی ہے۔
اس دوران ایران کے دفاعی اور عسکری ذرائع کے مطابق، ایران کی جانب سے کی جانے والی میزائل شلیک کی کارروائیاں صرف ردعمل نہیں بلکہ دشمن کے دفاعی اور حملہ آور مراکز کو غیر فعال کرنے کی منصوبہ بندی کے تحت کی جا رہی ہیں۔ امریکی اور اسرائیلی محاصرے کے باوجود ایران کی عسکری قیادت نے اپنے پلانوں میں لچک رکھی ہے تاکہ حالات کے مطابق جواب دیا جا سکے۔
لاریجانی نے واضح کیا کہ ایران نہ تو کسی غیر ملکی دباؤ میں آئے گا اور نہ ہی کسی جارحانہ اقدام کے سامنے اپنی پوزیشن کمزور کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کی ترجیح ہر وقت اپنے عوام، سرحدوں اور قومی مفادات کے تحفظ کو مقدم رکھنا ہے۔ ایران کے طویل المدتی دفاعی منصوبے اس بات کی ضمانت دیتے ہیں کہ وہ کسی بھی ممکنہ جارحیت کے خلاف مضبوط موقف اختیار کرے گا اور اپنے دشمنوں کو غلط حساب کتاب کا موقع نہیں دے گا۔
مزید برآں، ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ اس وقت کی صورتحال میں خطے کی فوجی توازن اور حکمت عملی بدل رہی ہے۔ ایران کی کوشش ہے کہ وہ نہ صرف اپنے دفاع کو یقینی بنائے بلکہ دشمن کے اہم مراکز کو بھی مؤثر نشانہ بنا کر کسی بھی اضافی جارحانہ کوشش کو ناکام بنائے۔ علی لاریجانی نے اس بات پر زور دیا کہ ایران کی فوج کی تیاری مکمل ہے اور وہ طویل لڑائی کے ہر مرحلے کو مؤثر طریقے سے انجام دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
انہوں نے عالمی برادری کو بھی خبردار کیا کہ ایران کا موقف دفاعی ہے اور وہ کسی بھی جارحیت کو برداشت کرنے کے لیے تیار ہے۔ علی لاریجانی نے یہ پیغام دیا کہ ایران کی قیادت اور فوج دونوں نے ملک کے دفاع کے لیے ہر ممکنہ حکمت عملی تیار کر رکھی ہے اور خطے میں کسی بھی قسم کی غیر ضروری کشیدگی ایران کی طرف سے کسی کمزوری کا سبب نہیں بنے گی۔
آخر میں علی لاریجانی نے اس بات پر زور دیا کہ ایران امریکہ اور اسرائیل کی طرح فوری نتائج کی تلاش میں نہیں بلکہ طویل المدتی دفاعی حکمت عملی کے تحت اپنی فوجی اور دفاعی تیاری مکمل کر چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران ہر قیمت پر اپنے ملک، عوام اور علاقائی مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے اور اس کا موقف کسی بھی جارحانہ اقدام کے سامنے سخت اور غیر متزلزل رہے گا۔
