ایران کے طاقتور عسکری ادارے پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیل کے خلاف “عظیم حملوں” کا آغاز کر دیا گیا ہے اور کارروائیاں مسلسل جاری ہیں۔
اپنے تازہ بیان میں پاسدارانِ انقلاب نے اسرائیلی شہریوں کو فوری طور پر ملک چھوڑنے کی وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ فوجی اڈوں، سیکیورٹی مراکز اور سرکاری عمارتوں سے دور رہا جائے کیونکہ یہ ممکنہ اہداف ہو سکتے ہیں۔
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب خطے میں پہلے ہی کشیدگی عروج پر ہے اور ایران و اسرائیل کے درمیان براہِ راست جھڑپیں شدت اختیار کر چکی ہیں۔ دفاعی ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی وارننگ کسی بڑے عسکری مرحلے کی نشاندہی کرتی ہے۔
ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد ایران میں انتقام کی علامت سرخ پرچم لہرایا گیا تھا، جو روایتی طور پر سخت ردعمل کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
اسی تناظر میں ایران کے سیکیورٹی چیف علی لاریجانی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ “صیہونی ریاست اسرائیل اور امریکہ نے ہمارے دلوں کو آگ لگا دی ہے، اب ہم ان کے دل جلا کر راکھ کر دیں گے۔”
علی لاریجانی نے واضح اعلان کیا کہ تہران امریکا کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات میں شامل نہیں ہوگا، خاص طور پر موجودہ کشیدگی اور حالیہ حملوں کے بعد۔ان کا کہنا تھا کہ ایران کے لیے اس وقت امن مذاکرات کی راہ موزوں نہیں اور ملک اپنے دفاعی اور قومی مفادات کا ہر قیمت پر تحفظ کرے گا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے مذاکرات سے انکار اور عسکری کارروائیوں کے اعلان نے مشرقِ وسطیٰ میں ایک وسیع تر جنگ کے خدشات کو بڑھا دیا ہے۔عالمی برادری کی نظریں اب اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا یہ کشیدگی مزید شدت اختیار کرے گی یا سفارتی کوششیں کسی ممکنہ تصادم کو روکنے میں کامیاب ہو سکیں گی۔
