ایران کے نائب وزیر خارجہ مجید تخت روانچی نے واضح طور پر کہا ہے کہ سعودی آئل فیلڈز پر حالیہ حملوں میں ایران کی کوئی ملوثیت نہیں ہے۔
تخت روانچی نے ایوان میں کہا کہ سعودی آئل انسٹالیشنز ایرانی فوج کے اہداف میں شامل نہیں ہیں اور ایران پہلے سے سعودی بھائیوں کے ساتھ رابطے میں ہے، تاکہ کشیدگی کم کی جا سکے۔
واضح رہے کہ امریکا اور اسرائیل کی کارروائیوں کے بعد جنگ پورے خطے میں پھیل چکی ہے۔ ایرانی پاسداران انقلاب نے بحرین میں امریکی اڈے کو نشانہ بنایا، جہاں 20 ڈرونز اور 3 میزائل داغے گئے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے پاسداران انقلاب کے کنٹرول اینڈ کمانڈر سنٹر کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
ایرانی میزائل لانچنگ سائٹس اور دیگر اہداف کو بھی نشانہ بنایا گیا، جبکہ سعودی عرب میں امریکی سفارت خانے پر بھی ڈرون حملہ کیا گیا۔اسرائیلی طیاروں نے لبنان کے دارالحکومت بیروت پر شدید بمباری کی، جبکہ حزب اللہ نے اسرائیلی ایئر بیس پر ڈرون حملے کیے۔ لبانن کے 59 قصبوں کو انخلا کی وارننگ جاری کی گئی ہے، جس سے خطے میں انسانی و سکیورٹی خدشات بڑھ گئے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے سعودی آئل فیلڈز پر حملے سے انکار اور خطے میں بڑھتی کشیدگی عالمی توانائی کی منڈیوں اور بین الاقوامی تعلقات پر بھی گہرا اثر ڈال سکتی ہے۔خطے میں فوری تناؤ کم کرنے کے لیے بین الاقوامی ثالثی اور سفارتی کوششوں کی ضرورت اب پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو گئی ہے
