ابوظبی: خطے میں بڑھتی کشیدگی کے دوران متحدہ عرب امارات نے واضح اعلان کیا ہے کہ وہ اپنی فضائی حدود ایران پر کسی بھی حملے کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔
اماراتی وزیرِ مملکت برائے بین الاقوامی تعاون ریم الہاشمی نے پریس بریفنگ میں کہا کہ امارات خطے میں کشیدگی میں اضافے کا حصہ نہیں بنے گا اور اس کی سرزمین یا فضائی حدود کسی تیسرے ملک کے خلاف کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہوں گی۔
ریم الہاشمی نے کہا کہ ایران کا بیلسٹک میزائل پروگرام خطے کے لیے تشویش کا باعث ہے، تاہم اس مسئلے کا حل عسکری نہیں بلکہ سفارتی اور سیاسی ذرائع سے تلاش کیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ بڑھتی ہوئی کشیدگی پورے خطے کو عدم استحکام سے دوچار کرسکتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ امارات کو اپنے دفاع کا مکمل حق حاصل ہے اور قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا۔
تہران میں سفارتخانہ بند، سفیر واپس بلالیا۔ایرانی حملوں کے بعد امارات نے تہران میں اپنا سفارتخانہ بند کر دیا اور سفیر کو واپس بلا لیا ہے۔ اس اقدام کو سفارتی سطح پر سخت پیغام قرار دیا جا رہا ہے، جو دونوں ممالک کے تعلقات میں عارضی تناؤ کی نشاندہی کرتا ہے۔
دوسری جانب ابوظبی میں عسکری حکام نے اعلان کیا ہے کہ ملک حالتِ جنگ میں ہے۔ ترجمان وزارتِ دفاع کے مطابق اماراتی مسلح افواج مکمل جنگی تیاری کی حالت میں ہیں اور ملکی خودمختاری و سلامتی پر کوئی آنچ نہیں آنے دی جائے گی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق امارات کا یہ بیان ایک متوازن حکمتِ عملی کی عکاسی کرتا ہے—ایک طرف ایران کے میزائل پروگرام پر تشویش، دوسری جانب براہِ راست عسکری تصادم سے گریز۔
یہ پیش رفت خلیجی خطے میں سفارتی صف بندی اور دفاعی تیاریوں کے نئے مرحلے کا اشارہ دے رہی ہے۔ آنے والے دنوں میں خطے کی سیاسی و عسکری صورتحال مزید واضح ہو سکے گی
