مشرقِ وسطیٰ میں سکیورٹی صورتحال ایک بار پھر شدید کشیدگی اختیار کر گئی ہے۔ رپورٹس کے مطابق ایک ایسا جدید ریڈار نظام تباہ کر دیا گیا ہے جو پورے خطے کی نگرانی کی صلاحیت رکھتا تھا۔ دفاعی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس ریڈار کی رینج تقریباً 5 ہزار کلومیٹر تھی، جس کے باعث یہ نہ صرف قریبی بلکہ دور دراز اہداف کی نقل و حرکت پر بھی نظر رکھنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔
ذرائع کے مطابق اس حساس دفاعی تنصیب کی مالیت ایک ارب ڈالر سے زائد بتائی جا رہی ہے، جسے جدید ٹیکنالوجی اور طویل فاصلے تک نگرانی کی صلاحیت کے باعث خطے کے اہم ترین دفاعی اثاثوں میں شمار کیا جاتا تھا۔ ماہرین دفاع کے مطابق اس ریڈار کی تباہی سے خطے میں فضائی نگرانی کے نظام کو عارضی طور پر بڑا خلا درپیش ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب United States Central Command (سینٹ کام) نے اپنے جاری کردہ بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی حکومت خطے میں حملوں کے لیے موبائل میزائل لانچرز استعمال کر رہی ہے۔
بیان کے مطابق یہ موبائل سسٹمز مسلسل اپنی جگہ تبدیل کرتے ہیں، جس کی وجہ سے انہیں ٹریک کرنا اور نشانہ بنانا مشکل ہو جاتا ہے۔ سینٹ کام کا کہنا ہے کہ ایران میزائل فائر کر کے پورے خطے کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
امریکی فوج کے ترجمان کے مطابق ہم خطے میں موجود اپنے اتحادیوں اور تنصیبات کے تحفظ کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کر رہے ہیں اور ہر اس خطرے کو ختم کیا جا رہا ہے جو امن و استحکام کے لیے چیلنج بنے۔
عالمی دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ 5 ہزار کلومیٹر رینج رکھنے والا ریڈار سسٹم اسٹریٹجک ڈیٹرنس (Strategic Deterrence) میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ اس کی تباہی نہ صرف دفاعی نظام کو متاثر کرتی ہے بلکہ خطے میں طاقت کے توازن کو بھی عارضی طور پر تبدیل کر سکتی ہے۔موبائل لانچرز کا استعمال جدید جنگی حکمت عملی کا حصہ سمجھا جاتا ہے، کیونکہ یہ روایتی جامد تنصیبات کے مقابلے میں زیادہ محفوظ اور لچکدار ہوتے ہیں۔
خطے میں حالیہ پیش رفت نے عالمی برادری کی تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔ مبصرین کے مطابق اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو سفارتی سطح پر دباؤ میں اضافہ ہو سکتا ہے اور ممکنہ طور پر نئی پابندیوں یا عسکری اقدامات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔امریکی سینٹ کام نے واضح کیا ہے کہ اس کی کارروائیاں دفاعی نوعیت کی ہیں اور مقصد خطے میں استحکام کو یقینی بنانا ہے۔ تاہم، موجودہ حالات نے مشرقِ وسطیٰ کو ایک بار پھر عالمی سیاست کا مرکز بنا دیا ہے، جہاں ہر پیش رفت عالمی امن پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔
موجودہ حالات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کی بساط ایک بار پھر بچھ چکی ہے اور آنے والے دن خطے کے امن و استحکام کے لیے نہایت اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔
