مشرقِ وسطیٰ کی سرزمین اس وقت شدید کشیدگی اور مسلسل عسکری کارروائیوں کی لپیٹ میں ہے۔ فضائی حملوں، میزائلوں اور بغیر پائلٹ طیاروں کے استعمال نے خطے کے امن کو مزید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ یہ تصادم اب پانچویں روز میں داخل ہو چکا ہے اور حالات کسی فوری کمی کی بجائے مزید شدت اختیار کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ ایسے ماحول میں ایران کی اعلیٰ قیادت کی جانب سے نہایت سخت اور دوٹوک مؤقف سامنے آیا ہے جس نے سفارتی کوششوں کے امکانات کو مزید محدود کر دیا ہے۔
ایران کے سپریم رہنما آیت اللہ علی خامنہ ای کے قریبی اور سینئر معاون محمد مخبر نے سرکاری نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے واضح اعلان کیا کہ ایران کسی بھی صورت امریکہ کے ساتھ بات چیت نہیں کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ تہران کو امریکی قیادت پر کوئی اعتماد نہیں رہا اور موجودہ حالات میں مذاکرات کی کوئی بنیاد موجود نہیں۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ ملک ہر طرح سے تیار ہے اور ضرورت پڑنے تک جنگ جاری رکھنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔
محمد مخبر نے مزید کہا کہ ایران اپنی حکمت عملی خود طے کرے گا اور کسی بیرونی دباؤ کے سامنے سر نہیں جھکائے گا۔ ان کے مطابق ملک کے عسکری اور دفاعی ادارے پوری طرح مستعد ہیں اور اگر حالات کا تقاضا ہوا تو کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔ انہوں نے اس بات کو بھی نمایاں کیا کہ ایران کے پاس وسائل، افرادی قوت اور عزم موجود ہے کہ وہ طویل عرصے تک محاذ پر ڈٹا رہ سکے۔
دوسری جانب ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی سخت ردعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے اپنے پیغام میں امریکی صدر کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ انہوں نے سفارتکاری کو نقصان پہنچایا اور اپنے ووٹروں کو بھی گمراہ کیا۔ عراقچی کے مطابق عمان کے ذریعے جاری جوہری مذاکراتی عمل کو اچانک غصے اور انتقامی سوچ کے تحت سبوتاژ کیا گیا، جس سے اعتماد کی فضا تباہ ہو گئی۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر بین الاقوامی بات چیت کو محض کاروباری سودے کے طور پر دیکھا جائے تو حقیقت پسندانہ نتائج حاصل کرنا ممکن نہیں رہتا۔ ان کے بقول مذاکرات سنجیدگی، باہمی احترام اور حقیقت پسندی کا تقاضا کرتے ہیں، نہ کہ یکطرفہ مطالبات اور دباؤ کی سیاست کا۔ ایران ایسے کسی عمل کا حصہ نہیں بن سکتا جس میں اعتماد اور توازن کا فقدان ہو۔
ادھر منگل کے روز ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران کے ساتھ بات چیت کا دروازہ بند ہو چکا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایرانی قیادت نے کسی مرحلے پر گفت و شنید کی خواہش ظاہر کی تھی، لیکن اب وہ وقت گزر چکا ہے۔ اس اعلان کے بعد دونوں ممالک کے درمیان سفارتی فاصلے مزید بڑھ گئے ہیں۔
عسکری محاذ پر بھی صورتحال نہایت سنگین ہے۔ امریکی مرکزی کمان کے مطابق کارروائیوں کے دوران سترہ ایرانی بحری جہازوں کو نشانہ بنایا گیا اور سینکڑوں بیلسٹک میزائلوں اور بغیر پائلٹ طیاروں کو تباہ کیا گیا۔ مزید یہ کہ بی ٹو بمبار طیاروں کے ذریعے ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے ٹھکانوں پر حملے کیے گئے۔ ان دعوؤں نے خطے میں کشیدگی کو ایک نئے مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔
دوسری طرف امریکی اندازوں کے مطابق ایران نے اسرائیل اور بعض خلیجی ریاستوں کی جانب پانچ سو سے زائد بیلسٹک میزائل اور دو ہزار سے زیادہ بغیر پائلٹ طیارے بھیجے۔ اگرچہ ان اعداد و شمار کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق نہیں ہو سکی، تاہم ان کا حجم اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ تصادم محدود دائرے سے نکل کر وسیع پیمانے پر پھیل چکا ہے۔
اسرائیل کی جانب سے تہران سمیت دیگر علاقوں پر فضائی حملوں کا سلسلہ بھی جاری ہے، جس کے باعث خطے میں خوف و ہراس کی فضا قائم ہے۔ شہری آبادیوں کے قریب دھماکوں اور دفاعی نظام کی سرگرمیوں نے حالات کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ عالمی برادری تشویش کے ساتھ ان پیش رفتوں کا مشاہدہ کر رہی ہے کیونکہ اس تنازع کے اثرات توانائی کی عالمی منڈیوں، سمندری راستوں اور علاقائی استحکام پر مرتب ہو سکتے ہیں۔
ایرانی قیادت کے حالیہ بیانات سے واضح ہے کہ وہ پسپائی اختیار کرنے کے موڈ میں نہیں۔ محمد مخبر نے دوٹوک انداز میں کہا کہ ایران اپنی شرائط پر جنگ جاری رکھنے کی طاقت رکھتا ہے اور اسے کسی سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں۔ اسی طرح وزیر خارجہ نے بھی اس بات کا اعادہ کیا کہ اعتماد کے بغیر بات چیت ممکن نہیں اور موجودہ ماحول اس کے لیے سازگار نہیں۔
صورتحال ایک نازک موڑ پر پہنچ چکی ہے جہاں عسکری سرگرمیاں بڑھ رہی ہیں جبکہ سفارتی راستے سکڑتے جا رہے ہیں۔ دونوں جانب سخت مؤقف اپنائے جانے کے باعث فوری طور پر کشیدگی میں کمی کے آثار دکھائی نہیں دیتے۔ اگر حالات میں کوئی غیر معمولی پیش رفت نہ ہوئی تو یہ بحران مزید گہرا ہو سکتا ہے اور اس کے اثرات پورے خطے پر طویل مدت تک مرتب ہو سکتے ہیں۔
