مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران ایک نیا اور حیران کن دعویٰ سامنے آیا ہے جس کے مطابق عراقی کرد جنگجوؤں نے ایران کے خلاف زمینی کارروائی شروع کردی ہے، تاہم ایران نے ان خبروں کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔
امریکی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے ایک امریکی اہلکار نے دعویٰ کیا کہ تقریباً ایک ہزار عراقی کرد جنگجوؤں نے ایران کے خلاف زمینی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ اہلکار کے مطابق ہزاروں کرد جنگجو سرحد عبور کر کے ایران کے سرحدی علاقوں میں داخل ہو رہے ہیں اور وہاں مختلف مقامات پر کارروائیاں کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں ایران کے سرحدی علاقوں میں جاری کشیدگی کے پس منظر میں سامنے آئی ہیں، جس سے خطے میں سکیورٹی صورتحال مزید پیچیدہ ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔
دوسری جانب امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے اس معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکی فوج براہِ راست ایران کے خلاف کسی بھی باغی گروپ کو اسلحہ فراہم نہیں کر رہی۔ تاہم انہوں نے یہ امکان بھی ظاہر کیا کہ امریکی حکومت کے بعض دیگر ادارے یا حلقے اس طرح کی سرگرمیوں میں شامل ہو سکتے ہیں۔
وزیر دفاع کے اس بیان نے صورتحال کو مزید مبہم بنا دیا ہے اور مبصرین کے مطابق یہ اشارہ ہو سکتا ہے کہ خطے میں مختلف طاقتیں پسِ پردہ سرگرم ہیں۔
ادھر ایرانی خبر ایجنسیوں نے ان دعوؤں کی سختی سے تردید کر دی ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق ایران کے سرحدی صوبوں میں کسی بھی قسم کے کرد جنگجوؤں کے داخل ہونے کی اطلاعات درست نہیں ہیں اور سکیورٹی فورسز مکمل طور پر صورتحال پر قابو رکھے ہوئے ہیں۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ سرحدی علاقوں میں سکیورٹی انتہائی سخت ہے اور کسی بھی مسلح گروہ کے لیے ایران میں داخل ہونا ممکن نہیں۔ ایرانی ذرائع کے مطابق دشمن عناصر غلط معلومات پھیلا کر خطے میں خوف اور بے یقینی پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
سیاسی و عسکری ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر واقعی کرد جنگجو ایران کی سرحد پار کرتے ہیں تو یہ صورتحال مشرقِ وسطیٰ میں ایک نئے محاذ کے کھلنے کے مترادف ہو سکتی ہے، جس کے اثرات عراق، ترکی اور شام سمیت پورے خطے پر پڑ سکتے ہیں۔
فی الحال اس معاملے پر متضاد اطلاعات سامنے آ رہی ہیں اور آزاد ذرائع سے ان دعوؤں کی تصدیق نہیں ہو سکی، تاہم یہ خبر خطے میں جاری کشیدگی کو مزید بڑھانے کا سبب بن رہی ہے۔
