کیف: یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے اعلان کیا ہے کہ یوکرین خلیجی ممالک کی دفاعی صلاحیت بڑھانے کے لیے اپنے ماہرین تعینات کرنے پر غور کر رہا ہے تاکہ ایران کے ڈرونز اور میزائل حملوں کے ممکنہ خطرات کا مقابلہ کرنے میں مدد فراہم کی جا سکے۔
صدر زیلنسکی نے کہا کہ انہوں نے گزشتہ دو دنوں کے دوران خلیجی خطے کے اہم رہنماؤں سے رابطے کیے ہیں، جن میں متحدہ عرب امارات، قطر، اردن اور بحرین کے سربراہان شامل ہیں۔ ان رابطوں میں خطے کی سکیورٹی صورتحال اور دفاعی تعاون کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
یوکرینی صدر کے مطابق انہوں نے اپنے وزرا اور فوجی کمانڈروں کے ساتھ تفصیلی مشاورت کے بعد ایک ابتدائی منصوبہ تیار کیا ہے جس کے تحت یوکرین اپنے تجربہ کار دفاعی ماہرین کو خلیجی ممالک میں تعینات کر سکتا ہے۔
زیلنسکی کا کہنا تھا کہ اس منصوبے کا مقصد خلیجی ممالک کو ڈرون اور میزائل حملوں کے خلاف دفاعی حکمت عملی میں مدد فراہم کرنا ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اس اقدام کے دوران یوکرین کی قومی سلامتی، خودمختاری اور دفاعی ضروریات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
صدر زیلنسکی نے اپنے بیان میں کہا کہ یوکرین گزشتہ چند برسوں سے ڈرون اور میزائل حملوں کا سامنا کر رہا ہے اور اس تجربے کی بنیاد پر وہ دیگر ممالک کے ساتھ اپنی مہارت اور دفاعی حکمت عملی شیئر کر سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یوکرین نہ صرف اپنی سرزمین کے دفاع کے لیے کوشاں ہے بلکہ عالمی سطح پر زندگیوں کے تحفظ اور خطے کے استحکام میں بھی مثبت کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یوکرین کی جانب سے خلیجی ممالک کو دفاعی تعاون کی پیشکش خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں ایک اہم سفارتی اور سکیورٹی پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔
