مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی و عسکری کشیدگی کے باعث عالمی توانائی منڈی میں شدید بے چینی پیدا ہوگئی ہے اور خام تیل کی قیمتیں گزشتہ دو برس کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔
بین الاقوامی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری جنگی صورتحال اور اہم سمندری راستے آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں تقریباً 9 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
عالمی منڈی میں برطانوی برینٹ کروڈ آئل کی قیمت بڑھ کر 93 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل تقریباً 88 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہو رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر خطے میں کشیدگی برقرار رہی تو تیل کی قیمتیں مزید بڑھ کر 100 ڈالر فی بیرل کی سطح کو بھی عبور کر سکتی ہیں۔
ادھر قطر کے وزیرِ توانائی نے عالمی توانائی منڈی کو درپیش خطرات سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ صرف علاقائی مسئلہ نہیں بلکہ یہ عالمی معیشت کے لیے ایک بڑا خطرہ بن سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر صورتحال مزید خراب ہوئی تو خلیجی خطے کے کئی تیل پیدا کرنے والے ممالک کو چند ہفتوں یا حتیٰ کہ چند دنوں کے لیے اپنی پیداوار روکنے پر بھی مجبور ہونا پڑ سکتا ہے۔
قطری وزیرِ توانائی نے یہ بھی واضح کیا کہ اگرچہ کسی ممکنہ سفارتی پیش رفت کے نتیجے میں جنگ فوری طور پر ختم بھی ہو جائے تو بھی توانائی کی ترسیل اور سپلائی چین کو مکمل طور پر معمول پر آنے میں کئی ہفتوں سے مہینوں تک کا وقت لگ سکتا ہے۔
توانائی ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کا ایک انتہائی اہم بحری راستہ ہے جہاں سے عالمی تیل تجارت کا تقریباً 20 فیصد حصہ گزرتا ہے۔ اگر اس راستے میں طویل مدت تک رکاوٹ برقرار رہی تو نہ صرف تیل بلکہ گیس اور دیگر توانائی وسائل کی سپلائی بھی متاثر ہوسکتی ہے جس کے نتیجے میں عالمی مہنگائی میں مزید اضافہ اور اقتصادی سست روی کا خطرہ پیدا ہوسکتا ہے۔
دوسری جانب عالمی مالیاتی ادارے اور توانائی تجزیہ کار صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور خبردار کر رہے ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اگر مزید پھیلتی ہے تو اس کے اثرات دنیا بھر کی معیشتوں، بالخصوص ترقی پذیر ممالک پر شدید پڑ سکتے ہیں۔
