مشرقِ وسطیٰ میں تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال اور بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی کے دوران سعودی عرب کی قیادت نے سفارتی محاذ پر سرگرمیاں بڑھا دی ہیں۔ سعودی ولی عہد اور وزیراعظم محمد بن سلمان نے سنیچر کو متعدد عالمی رہنماؤں سے اعلیٰ سطح کے ٹیلیفونک رابطے کیے اور خطے میں امن و استحکام برقرار رکھنے کے حوالے سے مشاورت کی۔
عرب نیوز کے مطابق یہ رابطے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب مشرقِ وسطیٰ ایرانی ڈرون اور میزائل حملوں کی لہر سے نبرد آزما ہے اور خطے کی سکیورٹی صورتحال انتہائی حساس ہو چکی ہے۔سعودی پریس ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ولی عہد نے ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان، برطانیہ کے وزیراعظم کیئر اسٹارمر اور قبرص کے صدر نیکوس کرسٹوڈولائیڈز سے الگ الگ ٹیلیفونک گفتگو کی۔
ان گفتگوؤں میں محمد بن سلمان نے واضح کیا کہ سعودی عرب خطے میں کسی بھی ایسی کارروائی کو سختی سے مسترد کرتا ہے جو علاقائی استحکام کو نقصان پہنچائے یا کشیدگی میں اضافہ کرے۔ انہوں نے زور دیا کہ موجودہ بحران کا حل سفارتی اور سیاسی کوششوں کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے۔
ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان سے گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد نے حالیہ ایرانی حملوں کی شدید مذمت کی جو ترکیہ کی سرحدوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ سعودی عرب ترکیہ کی سلامتی اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے کیے جانے والے ہر اقدام کی مکمل حمایت کرتا ہے۔
ترکیہ نے حالیہ دنوں میں بتایا تھا کہ نیٹو کے فضائی دفاعی نظام نے مشرقی بحیرۂ روم میں ایک ایرانی بیلسٹک میزائل کو تباہ کر دیا، جس سے اس تنازع کے دائرہ کار میں مزید وسعت کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
دوسری جانب برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے سعودی عرب کے ساتھ برطانیہ کی مضبوط حمایت کا اعادہ کیا۔ انہوں نے ایران کے ان حملوں کو ’غیر محتاط‘ قرار دیتے ہوئے مذمت کی جو سعودی سرزمین کو نشانہ بنا رہے ہیں۔اسٹارمر نے اس بات پر زور دیا کہ برطانیہ سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہے اور ریاض کی خودمختاری اور علاقائی سلامتی کے تحفظ کیلئے اٹھائے جانے والے اقدامات کی حمایت کرتا ہے۔
موجودہ کشیدگی کا آغاز اس وقت ہوا جب اسرائیل اور امریکہ نے گزشتہ ہفتے سنیچر کو ایران کے خلاف بڑے فضائی حملے کیے۔ اس کارروائی کے بعد ایران نے خطے کے مختلف مقامات کو نشانہ بناتے ہوئے جوابی حملوں کا سلسلہ شروع کر دیا۔یہ تنازع جسے مبصرین اب “امریکہ–اسرائیل–ایران جنگ” قرار دے رہے ہیں، 28 فروری 2026 کو شدت اختیار کرنے کے بعد اب اپنے دوسرے ہفتے میں داخل ہو چکا ہے اور اس نے پورے خطے کے جغرافیائی سیاسی منظرنامے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
تین مارچ کو محمد بن سلمان کی زیر صدارت ہونے والے کابینہ اجلاس کے بعد سعودی عرب نے واضح کیا تھا کہ وہ اپنے دفاع کا مکمل حق محفوظ رکھتا ہے۔ کابینہ کے بیان میں کہا گیا کہ مملکت اپنی سرزمین، شہریوں اور مقیم غیر ملکیوں کو ان حملوں سے محفوظ رکھنے کیلئے تمام ضروری اقدامات کرے گی۔تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صورتحال میں سعودی عرب کی سفارتی سرگرمیاں اس بات کا اشارہ ہیں کہ ریاض خطے میں کشیدگی کم کرنے، جنگ کے دائرہ کار کو محدود رکھنے اور سیاسی حل کی راہ ہموار کرنے کیلئے اہم کردار ادا کرنے کی کوشش کررہا ہے۔
