امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح اعلان کیا ہے کہ ایران کے ساتھ اس وقت تک کوئی معاہدہ قبول نہیں کیا جائے گا جب تک تہران مکمل اور غیر مشروط طور پر امریکہ کے سامنے سرنڈر کرنے پر آمادہ نہیں ہوتا۔
صدر ٹرمپ کا یہ سخت مؤقف ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف شروع کی گئی مشترکہ فوجی کارروائی کو سات دن مکمل ہو چکے ہیں اور خطے میں کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے۔رپورٹس کے مطابق اس جنگ کے دوران ایران کو بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ امریکی اور اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای اور ان کے اہل خانہ کے کئی افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جسے واشنگٹن اور تل ابیب کے لیے ایک بڑی عسکری کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔
تاہم مبصرین کے مطابق ایران میں حکومت کی تبدیلی کا ہدف ابھی تک حاصل نہیں ہو سکا۔ دوسری جانب فضائی حملوں کے باعث ایران کے کئی شہروں میں شہری انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اب تک ایک ہزار سے زائد شہری امریکی اور اسرائیلی بمباری میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکہ اور اس کے اتحادی ایران کے لیے ایک “عظیم اور قابل قبول” قیادت سامنے لانے کے لیے انتھک کوششیں کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق اس مقصد کا بنیادی ہدف ایران کو تباہی کے دہانے سے واپس لانا اور ملک میں استحکام پیدا کرنا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ مستقبل میں ایرانی معیشت کی بحالی کے لیے بھی اقدامات کرنے کو تیار ہے۔یاد رہے کہ حالیہ کشیدگی اس وقت مزید بڑھ گئی تھی جب ایران میں معاشی بحران کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے شروع ہوئے۔ شدید مہنگائی، کرنسی کی قدر میں تاریخی کمی اور بڑھتی ہوئی افراطِ زر کے باعث تاجروں اور دکانداروں نے حکومت کے خلاف احتجاج کیا تھا۔
ایران گزشتہ کئی دہائیوں سے امریکہ اور اس کے یورپی اتحادیوں کی جانب سے عائد اقتصادی پابندیوں کا سامنا کر رہا ہے، جس کے باعث ملک کی معیشت شدید دباؤ کا شکار رہی ہے۔اسی تناظر میں صدر ٹرمپ نے ان مظاہروں کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے ایران میں مداخلت کا عندیہ دیا تھا، جس کے بعد خطے میں صورتحال تیزی سے عسکری تصادم کی شکل اختیار کر گئی۔
