پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون اور خطے کی بدلتی ہوئی سکیورٹی صورتحال پر اعلیٰ سطح کی اہم ملاقات ہوئی ہے۔ فیلڈ مارشل اور چیف آف ڈیفنس فورسز سید عاصم منیر نے سعودی عرب کے دورے کے دوران سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان سے ملاقات کی جس میں مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی اور ایرانی ڈرون و میزائل حملوں سے پیدا ہونے والی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق اس ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے خطے میں سکیورٹی چیلنجز اور ممکنہ خطرات کا جائزہ لیا۔ گفتگو کے دوران ایرانی ڈرون اور میزائل حملوں کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال اور اس کے علاقائی اثرات پر خصوصی توجہ دی گئی۔آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان موجود اسٹریٹجک دفاعی معاہدے کے تحت ممکنہ اقدامات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا تاکہ خطے میں سکیورٹی کو مزید مستحکم بنایا جا سکے اور کسی بھی ممکنہ خطرے سے مؤثر انداز میں نمٹا جا سکے
دونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ بلاجواز جارحیت خطے کے امن اور استحکام کے لیے ایک بڑا خطرہ بن سکتی ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ ایسے حملے نہ صرف سکیورٹی صورتحال کو خراب کرتے ہیں بلکہ امن کے لیے جاری سفارتی اور مذاکراتی کوششوں کو بھی متاثر کرتے ہیں۔
بیان کے مطابق دونوں فریقین نے امید ظاہر کی کہ ایران موجودہ صورتحال میں دانشمندی اور تحمل کا مظاہرہ کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کی محتاط حکمت عملی خطے میں کشیدگی کم کرنے اور بحران کے پرامن حل کے لیے جاری کوششوں میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔
ملاقات کے دوران پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی اور سکیورٹی تعاون کو مزید فروغ دینے پر بھی اتفاق کیا گیا۔ دونوں ممالک نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ خطے میں امن، استحکام اور دوطرفہ دوستی کو مضبوط بنانے کے لیے قریبی تعاون جاری رکھیں گے۔تجزیہ کاروں کے مطابق خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اس نوعیت کے اعلیٰ سطحی دفاعی رابطے نہایت اہم سمجھے جا رہے ہیں، جو مستقبل میں مشترکہ سکیورٹی حکمت عملی کو مزید مؤثر بنانے میں مدد دے سکتے ہیں۔
