مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران ایران نے سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اس کے خلاف جنگجوؤں کو داخل کرنے کی کوشش کی گئی تو وہ عراقی کردستان کے علاقے کو براہِ راست نشانہ بنائے گا۔
ایران کی ڈیفنس کونسل کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اب تک ایران نے اپنے حملوں میں صرف امریکہ کے فوجی اڈوں، اسرائیل اور خطے میں سرگرم علیحدگی پسند گروپوں کو نشانہ بنایا ہے۔ یہ بیان ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے مہر نیوز ایجنسی نے جاری کیا۔بیان میں کہا گیا کہ اگر ایران کے خلاف سازشی منصوبے جاری رکھے گئے اور مسلح جنگجوؤں کو ایرانی سرزمین میں داخل کرنے کی کوشش کی گئی تو کردستان ریجن کے تمام اہداف ایران کی کارروائی کی زد میں ہوں گے۔
ایران کا کہنا ہے کہ وہ اپنی قومی سلامتی کے خلاف کسی بھی اقدام کو برداشت نہیں کرے گا اور اس حوالے سے سخت ردعمل دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔یہ دھمکی ایسے وقت سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ وہ ایرانی کردوں کی جانب سے ایران پر ممکنہ حملوں کی حمایت کریں گے۔خبر رساں ادارے روئٹرز کو دیے گئے انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ اگر کرد گروپ ایران کے خلاف کارروائی کرتے ہیں تو یہ ایک “زبردست اقدام” ہوگا۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا امریکہ کرد جنگجوؤں کو ایران پر حملوں کے لیے مدد یا تحفظ فراہم کرے گا تو انہوں نے براہِ راست جواب دینے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس بارے میں تفصیل نہیں بتا سکتے، تاہم ان کے بقول اگر کرد ایسا کرتے ہیں تو یہ کامیابی کی طرف ایک قدم ہوگا۔
رپورٹس کے مطابق ایران سے تعلق رکھنے والے کرد جنگجوؤں نے حال ہی میں امریکی حکام سے مشاورت بھی کی تھی کہ آیا انہیں ایران کے مغربی علاقوں میں حملے شروع کرنے چاہئیں یا نہیں۔ اس بات کی تصدیق تین مختلف ذرائع نے کی ہے۔اطلاعات کے مطابق ایرانی کردوں کے اتحاد پر مبنی کئی گروپ عراق اور ایران کی سرحد کے قریب نیم خودمختار علاقوں میں موجود ہیں، جہاں انہیں عسکری تربیت بھی دی جاتی ہے۔
یاد رہے کہ حالیہ دنوں میں امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف فضائی حملے شروع کیے ہیں، جس کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ایران کا مؤقف ہے کہ بعض کرد مسلح گروہ امریکہ اور اسرائیل کے مفادات کے لیے کام کرتے ہیں، اسی لیے تہران انہیں اپنی قومی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھتا ہے اور ان کے خلاف کارروائی جاری رکھے ہوئے ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق اگر کرد جنگجو ایران کے خلاف کارروائیاں شروع کرتے ہیں تو اس سے مشرقِ وسطیٰ کا تنازع مزید پیچیدہ ہو سکتا ہے اور یہ بحران ایک نئے محاذ کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔
