ایران اور اسرائیل/امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کے پس منظر میں خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے۔ اسی تناظر میں ترکیہ نے ایک بار پھر اعلان کیا ہے کہ اس کے دفاعی نظام نے ایران کی جانب سے فائر کیے گئے ایک بیلسٹک میزائل کو فضا ہی میں تباہ کر دیا۔ ترک حکام نے اس واقعے کے بعد واضح کیا ہے کہ ملک کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔
ترکیہ کی وزارتِ دفاع کے مطابق یہ کارروائی نیٹو کے فضائی دفاعی نظام کے ذریعے انجام دی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ مشرقی بحیرۂ روم کے قریب ایران سے داغا گیا میزائل ترکیہ کی حدود تک پہنچنے سے پہلے ہی نشانہ بنا لیا گیا۔ اس واقعے کے نتیجے میں میزائل کے کچھ ٹکڑے جنوبی ترکیہ کے صوبے غازی عنتاب کے علاقے میں گرے، تاہم حکام کے مطابق کسی قسم کا جانی نقصان یا بڑی تباہی رپورٹ نہیں ہوئی۔
ترک وزارتِ دفاع نے اس واقعے کے بعد جاری بیان میں کہا کہ ملک کو درپیش کسی بھی ممکنہ خطرے کے خلاف فوری اور مؤثر ردعمل دیا جائے گا۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے فوجی اور دفاعی اقدامات کو مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے اور اگر صورتحال کا تقاضا ہوا تو مزید اقدامات بھی کیے جا سکتے ہیں۔
یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ نے پورے مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کو نئی سطح پر پہنچا دیا ہے۔ 28 فروری کو شروع ہونے والی اس جنگ کے بعد خطے میں کئی ممالک اپنی دفاعی پوزیشن مضبوط کرنے میں مصروف ہیں۔ ترک حکام کے مطابق ایران کی جانب سے داغا گیا یہ میزائل اسی کشیدہ صورتحال کا حصہ تھا۔
ترکیہ کے حکام نے اس بات پر زور دیا کہ یہ پہلا موقع نہیں جب ایران کی جانب سے فائر کیے گئے میزائل کو روکنا پڑا ہو۔ اس سے قبل بھی گزشتہ ہفتے نیٹو کے دفاعی نظام نے ترکیہ کی فضائی حدود کی جانب بڑھنے والے ایک ایرانی بیلسٹک میزائل کو مار گرایا تھا۔ اس واقعے کے بعد ترکیہ نے تہران کو واضح انتباہ جاری کیا تھا کہ وہ آئندہ ایسے اقدامات سے گریز کرے۔
ترکیہ کی صدارت نے بھی اس معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے تمام علاقائی فریقوں کو محتاط رہنے کا مشورہ دیا ہے۔ ترک صدارتی دفتر کی جانب سے جاری بیان میں خاص طور پر ایران کو متنبہ کیا گیا کہ ایسی کسی بھی فوجی سرگرمی سے اجتناب کیا جائے جو خطے کے امن و امان یا عام شہریوں کی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتی ہو۔
ادھر سکیورٹی خدشات کے پیش نظر ترکیہ نے اپنی فوجی تیاریوں میں اضافہ بھی شروع کر دیا ہے۔ وزارتِ دفاع نے بتایا کہ ایران میں جاری جنگی صورتحال کے باعث بیرونِ ملک مقیم ترک شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے اضافی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اسی مقصد کے تحت شمالی قبرص میں چھ ایف-16 لڑاکا طیارے اور جدید فضائی دفاعی نظام تعینات کر دیے گئے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ ان طیاروں اور دفاعی نظام کی تعیناتی کا مقصد ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے فوری ردعمل کی صلاحیت کو بہتر بنانا ہے۔ وزارت کے مطابق اگر حالات مزید خراب ہوتے ہیں تو ترکیہ اپنی دفاعی حکمت عملی میں مزید تبدیلیاں بھی لا سکتا ہے۔
اس دوران مشرقی بحیرۂ روم کے علاقے میں فوجی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ یورپی ممالک نے بھی حالیہ دنوں میں قبرص کے جزیرے میں اپنی فوجی موجودگی بڑھا دی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس اقدام کا مقصد خطے میں پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال کے دوران دفاعی تیاریوں کو مضبوط بنانا ہے۔
قبرص میں فوجی سرگرمیوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ گزشتہ ہفتے پیش آنے والا ایک واقعہ بھی ہے۔ اطلاعات کے مطابق جزیرے پر قائم برطانوی فضائی اڈے “اکروتیری” کو ایک ایرانی ڈرون نے نشانہ بنانے کی کوشش کی تھی۔ سکیورٹی حکام کا خیال ہے کہ یہ ڈرون لبنان کی تنظیم حزب اللہ کی جانب سے بھیجا گیا تھا، جو ایران کے قریبی اتحادیوں میں شمار کی جاتی ہے۔
اس حملے کے بعد یورپی ممالک اور نیٹو اتحادیوں نے خطے میں دفاعی اقدامات تیز کر دیے ہیں۔ حکام کے مطابق قبرص کی جغرافیائی اہمیت اور مشرقِ وسطیٰ کے قریب ہونے کی وجہ سے یہاں سکیورٹی صورتحال پر خصوصی نظر رکھی جا رہی ہے۔
دوسری جانب ایران نے ان الزامات کی سختی سے تردید کی ہے کہ اس نے ترکیہ یا کسی دوسرے پڑوسی ملک کو نشانہ بنایا ہے۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ تہران کی پالیسی علاقائی ممالک کے ساتھ کشیدگی بڑھانے کی نہیں بلکہ صورتحال کو مزید خراب ہونے سے روکنے کی ہے۔
ایرانی حکام نے ترکیہ اور آذربائیجان سمیت تمام پڑوسی ممالک سے اپیل کی ہے کہ وہ موجودہ حالات میں تحمل اور ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔ تہران کے مطابق خطے میں جاری جنگ پہلے ہی خطرناک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے اور ایسے میں غلط فہمیوں سے بچنا انتہائی ضروری ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ایران اور امریکہ/اسرائیل کے درمیان جاری جنگ کے اثرات اب صرف محدود علاقوں تک نہیں رہے بلکہ پورا خطہ اس کے اثرات محسوس کر رہا ہے۔ مختلف ممالک اپنی سرحدوں اور فضائی حدود کے تحفظ کے لیے اضافی اقدامات کر رہے ہیں۔
ترکیہ کی جانب سے ایرانی میزائل کو دوبارہ تباہ کیے جانے کا اعلان بھی اسی وسیع تر علاقائی کشیدگی کا حصہ سمجھا جا رہا ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق اگر خطے میں کشیدگی اسی طرح بڑھتی رہی تو مزید ممالک کو بھی اپنی دفاعی حکمت عملی میں تبدیلیاں کرنا پڑ سکتی ہیں۔
فی الحال ترک حکام نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ ملک کی سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ وزارتِ دفاع کے مطابق دفاعی نظام مکمل طور پر فعال ہے اور کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے فوج اور فضائیہ تیار ہیں۔
اس کے ساتھ ہی ترکیہ نے سفارتی سطح پر بھی محتاط رویہ اپناتے ہوئے تمام فریقوں پر زور دیا ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو صورتحال کو مزید کشیدہ بنا سکتے ہیں۔ تاہم زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ خطے میں جاری جنگ اور اس سے جڑے واقعات آنے والے دنوں میں مزید پیچیدہ صورت اختیار کر سکتے ہیں۔
