منامہ:خلیجی ملک بحرین میں اسرائیلی خفیہ ایجنسی کیلئے مبینہ جاسوسی کے الزام میں ایک بھارتی شہری کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جس کے بعد ملک میں سکیورٹی اداروں نے تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کر دیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق گرفتار شخص کی شناخت نتن موہن کے نام سے ہوئی ہے جو پیشے کے اعتبار سے ٹیلی کمیونیکیشن انجینئر بتایا جاتا ہے اور کچھ عرصے سے بحرین میں مقیم تھا۔
بحرینی حکام کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ ملزم پر اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کو حساس معلومات فراہم کرنے کا الزام ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس نے مختلف اہم مقامات سے متعلق جغرافیائی معلومات، تصاویر اور ویڈیوز خفیہ طور پر موساد کو فراہم کیں جن میں بعض اہم اور اسٹریٹجک تنصیبات اور حساس علاقوں کی تفصیلات بھی شامل تھیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کی معلومات غیر ملکی انٹیلی جنس اداروں کے لیے نہایت اہم ہوتی ہیں کیونکہ ان کی مدد سے ممکنہ اہداف کا تعین، ان کے سکیورٹی نظام کا تجزیہ اور مستقبل کی کارروائیوں کی منصوبہ بندی آسان ہو سکتی ہے۔ اسی وجہ سے اس کیس کو بحرین کی قومی سلامتی سے جڑا ایک سنگین معاملہ قرار دیا جا رہا ہے۔
بحرین کی وزارت داخلہ نے ایک سرکاری بیان میں گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملزم سے تفتیش جاری ہے اور سکیورٹی ادارے اس بات کا تعین کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آیا اس کے دیگر ساتھی بھی اس نیٹ ورک کا حصہ تھے یا نہیں۔ وزارت داخلہ کے مطابق تحقیقات مکمل ہونے کے بعد اس کیس سے متعلق مزید تفصیلات عوام کے سامنے لائی جائیں گی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اس معاملے میں صرف ایک شخص ہی نہیں بلکہ دیگر بھارتی شہریوں کے ملوث ہونے کے خدشات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ بعض اطلاعات میں کہا گیا ہے کہ چند مزید افراد کو بھی جاسوسی اور سنگین غداری کے الزامات کے تحت حراست میں لیا گیا ہے اور ان سے پوچھ گچھ جاری ہے۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عدالت میں ملزمان پر عائد الزامات ثابت ہو گئے تو انہیں سخت سزاؤں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ بعض رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ بحرین کے قوانین کے مطابق سنگین جاسوسی اور قومی سلامتی کے خلاف سرگرمیوں میں ملوث افراد کو سخت ترین سزائیں حتیٰ کہ سزائے موت بھی دی جا سکتی ہے۔
دوسری جانب اس واقعے کے بعد بحرین میں سکیورٹی اداروں نے حساس تنصیبات اور اہم مقامات کی نگرانی مزید سخت کر دی ہے جبکہ جاسوسی کے ممکنہ نیٹ ورک کے حوالے سے تحقیقات جاری ہیں تاکہ اس معاملے کے تمام پہلوؤں کو واضح کیا جا سکے۔
