نیویارک:امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے ایران کی جانب سے حالیہ جنگ کے دوران عرب ممالک پر کیے جانے والے ڈرون اور میزائل حملوں کی تفصیلات جاری کی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، ایران نے اب تک عرب ممالک میں اپنے اہداف پر تقریباً 2000 ڈرونز اور 500 میزائل داغے ہیں، جس سے خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔
نیویارک ٹائمز نے کہا کہ ایران کے میزائل کم ہونے کے تاثر کے برخلاف حملوں کی شدت میں کوئی کمی نہیں آئی، جبکہ اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے جانے والے حملوں کی تفصیلات دستیاب نہیں ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران نے خطے میں اپنی عسکری کاروائیوں کو مسلسل بڑھا رکھا ہے اور اس کے حملوں میں شدت اور حجم میں کمی واقع نہیں ہوئی۔
دوسری جانب، ایرانی پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے تل ابیب میں 10 خیبر شکن میزائل داغے ہیں۔ پاسداران انقلاب کے مطابق، مقبوضہ فلسطین میں سائرن بجنے کے بعد سائرن کی گونج بند نہیں ہوئی، اور اسی دوران امریکی نیوی پر بھی خیبر شکن میزائل کے ذریعے حملہ کیا گیا۔
ماہرین کے مطابق یہ حملے نہ صرف عرب ممالک بلکہ بین الاقوامی بحری بیڑہ اور خطے میں توانائی کے اہم راستوں کو بھی متاثر کر رہے ہیں۔ ایران کی طرف سے اس طرح کی جارحیت خطے میں کشیدگی میں اضافہ کر رہی ہے اور عالمی برادری کی توجہ کو خطے میں بڑھتی ہوئی سلامتی خطرات کی طرف مبذول کر رہی ہے۔
نیویارک ٹائمز کی رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ ایران کی عسکری کارروائیوں کی شدت اور تعداد عالمی سطح پر اس بات کا اشارہ ہے کہ ایران اپنے جغرافیائی اثر و رسوخ کو بڑھانے اور اپنی عسکری صلاحیتوں کو ظاہر کرنے میں سنجیدہ ہے، جبکہ اسرائیل اور دیگر مغربی ممالک کی جانب سے تفصیلی جوابی کاروائیوں کی معلومات محدود ہیں، جس سے خطے میں غیر یقینی صورتحال اور مزید کشیدگی پیدا ہو رہی ہے۔
