روس کی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے تصدیق کی ہے کہ ایران کے تاریخی شہر اصفہان میں حالیہ حملوں کے نتیجے میں روسی قونصل خانے کی عمارت کو نقصان پہنچا ہے۔
روسی وزارت خارجہ کے مطابق رواں ہفتے کے آغاز میں اصفہان میں گورنر کے دفتر کے قریب ہونے والے دھماکے نے آس پاس کی کئی عمارتوں کو متاثر کیا، جن میں روسی قونصل خانے کی عمارت بھی شامل ہے۔ ترجمان ماریا زاخارووا نے بتایا کہ دھماکے کی شدت کے باعث قونصل خانے کے دفتر اور اس سے منسلک رہائشی اپارٹمنٹس کی کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ دھماکا خاصا شدید تھا، تاہم خوش قسمتی سے اس واقعے میں قونصل خانے کے عملے یا وہاں موجود کسی بھی فرد کو جانی نقصان نہیں پہنچا۔
ماریا زاخارووا نے اس واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی ملک کے سفارتی مشن یا قونصل خانے کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قوانین اور سفارتی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی برادری کے طے شدہ معاہدوں کے تحت سفارتی تنصیبات کو خصوصی تحفظ حاصل ہوتا ہے، اس لیے تمام فریقین کو اس حیثیت کا مکمل احترام کرنا چاہیے۔
روسی وزارت خارجہ کی ترجمان نے مزید کہا کہ موجودہ علاقائی کشیدگی کے تناظر میں سفارتی مشنز اور غیر ملکی عملے کی سلامتی کو یقینی بنانا انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تنازعات کے باوجود سفارتی اداروں کو ہر صورت محفوظ رکھا جانا چاہیے تاکہ بین الاقوامی سفارتی روابط متاثر نہ ہوں۔
واضح رہے کہ مشرق وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی کے باعث مختلف شہروں میں سکیورٹی خدشات بڑھ گئے ہیں، اور عالمی برادری مسلسل اس بات پر زور دے رہی ہے کہ سفارتی تنصیبات اور غیر ملکی عملے کی حفاظت کو یقینی بنایا جائ
