ایران کےسینئرمشیرخارجہ کمال ہزاروی نے امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ کے اس بیان کو سختی سے مسترد کر دیا ہے جس میں ایران سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکی قیادت ایرانی قوم کی تاریخ، ثقافت اور عزم سے ناواقف ہے، اسی لیے ایسے بیانات سامنے آ رہے ہیں۔
امریکی نشریاتی ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں کمال خرازی نے کہا کہ ایران ایک پانچ سو سالہ تہذیبی ورثے کا حامل ملک ہے اور ایرانی قوم کو اپنے شیعہ نظریے اور اسلامی تصوف سے غیر معمولی روحانی اور نظریاتی طاقت حاصل ہے۔ ان کے مطابق یہی عناصر ایرانی عوام کو ہر مشکل صورتحال میں ثابت قدم رہنے کی قوت دیتے ہیں۔
انہوں نے امریکی مؤقف کو رد کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے پاس طویل جنگ لڑنے کی مکمل صلاحیت موجود ہے اور یہ کہنا کہ ایران لمبی جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتا، دراصل امریکی پروپیگنڈا ہے۔ کمال خرازی کے مطابق ایران اپنی دفاعی ضروریات کے لیے ہتھیار خود تیار کرتا ہے اور بیرونی ممالک پر انحصار نہیں کرتا۔
ان کا کہنا تھا کہ ایرانی افواج پوری طرح پُرعزم ہیں اور اگر ضرورت پڑی تو وہ طویل عرصے تک جنگ لڑنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ صورتحال میں سفارت کاری کی گنجائش تقریباً ختم ہو چکی ہے اور خطے میں جاری محاذ آرائی ایران کے وجود کے لیے خطرہ بن سکتی ہے، اس لیے ایران کو اپنی مکمل طاقت کے ساتھ جواب دینے کے لیے تیار رہنا ہوگا۔
دوسری جانب ایران کی نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری جنرل علی لاریجانی نے بھی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکیوں پر سخت ردعمل دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عاشورا سے محبت کرنے والی قوم کو کھوکھلی دھمکیوں سے خوفزدہ نہیں کیا جا سکتا اور ایرانی عوام اپنے دفاع کے لیے ہر قربانی دینے کو تیار ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی لفظی جنگ خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھارہی ہے، جبکہ عالمی برادری اس تنازع کے سفارتی حل کی ضرورت پر زور دے رہی ہے تاکہ مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام برقرار رکھا جا سکے۔
