مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے بڑھنے کے بعد ایران نے اسرائیل کے سب سے اہم ہوائی اڈے بن گورین ائیرپورٹ پر میزائل حملے کیے، جن سے ائیرپورٹ کو نقصان پہنچا اور فضائی نقل و حمل متاثر ہوئی۔
غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق ایران کی جانب سے داغے گئے میزائلوں کو اسرائیل کے دفاعی نظام نے مکمل طور پر روکنے میں ناکامی کا سامنا کیا، جس کے نتیجے میں متعدد میزائل ائیرپورٹ کے احاطے میں گرے اور ہوائی اڈے کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا۔
ادھر لبنان کی جانب سے بھی اسرائیل پر میزائل حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں اسرائیلی فوج کا کمیونیکیشن سسٹم تباہ ہو گیا۔ اس حملے میں کم از کم دو اسرائیلی زخمی ہوئے، جنہیں فوری طبی امداد فراہم کی گئی۔
اسرائیل کے وزیر خارجہ Gideon Sa’ar نے موجودہ صورتحال پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ اس وقت ختم ہوگی جب اسرائیل اور امریکا اسے مناسب سمجھیں گے اور مشترکہ طور پر اس کے بارے میں فیصلہ کریں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل ایران کے ساتھ لامحدود جنگ نہیں چاہتا، تاہم اپنی سلامتی کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی پورے خطے کے لیے خطرناک ہے اور اس سے عالمی توانائی کی منڈی، خطے میں امن و استحکام اور سیاسی صورتحال پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
حالیہ میزائل حملوں کے بعد اسرائیل میں سکیورٹی ہائی الرٹ کر دیا گیا اور ہوائی اڈے کے اطراف میں حفاظتی اقدامات میں اضافہ کیا گیا ہے تاکہ مزید ممکنہ خطرات سے نمٹا جا سکے۔
