تل ابیب / ریاض / منامہ: مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران ایران کی جانب سے اسرائیل اور خلیجی خطے پر میزائلوں اور ڈرونز کے حملوں کی ایک نئی اور شدید لہر سامنے آئی ہے جسے جنگ کے آغاز کے بعد سے اب تک کا سب سے بڑا حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔
اسرائیلی اخبار ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق بدھ کی صبح ایران سے داغے گئے متعدد میزائل اسرائیلی حدود کی جانب بڑھے تاہم اسرائیلی دفاعی نظام نے کئی میزائل فضا میں ہی تباہ کر دیے جبکہ بعض غیر آباد علاقوں میں جا گرے۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے قریب سمجھے جانے والے خبر رساں ادارے تسنیم نے ان حملوں کو موجودہ جنگ کے آغاز کے بعد سے سب سے شدید حملہ قرار دیا ہے۔
سعودی عرب کی وزارت دفاع نے اعلان کیا ہے کہ مملکت کے مختلف علاقوں کی جانب آنے والے سات بیلسٹک میزائل اور سات ڈرونز کو فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا۔
کویت کی وزارت دفاع نے بھی تصدیق کی کہ اس کی فضائی حدود میں داخل ہونے والے چار ڈرونز کو روکا گیا جبکہ دیگر ڈرون کھلے علاقوں میں گر گئے۔
اسی دوران بحرین میں بھی فضائی حملوں کے خطرے کے باعث سائرن بج اٹھے جس سے شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
اسرائیلی فوج نے اپنے سرکاری ٹیلی گرام اکاؤنٹ کے ذریعے بتایا کہ ایران سے اسرائیل کی جانب میزائلوں کے کئی دستے داغے گئے جن کا دفاعی نظام کے ذریعے پتہ لگایا گیا اور انہیں روکنے کے لیے کارروائی کی گئی۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے نامہ نگاروں نے بیت المقدس میں سائرن بجنے اور متعدد دھماکوں کی آوازیں سننے کی تصدیق کی ہے۔
اسرائیلی ایمبولینس سروس میگن ڈیوڈ ایڈم کے مطابق میزائل حملوں کے بعد فوری طور پر کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، تاہم چند افراد محفوظ پناہ گاہوں کی جانب جاتے ہوئے زخمی ہوئے جنہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
اسرائیلی ٹی وی چینل 12 نے رپورٹ کیا ہے کہ تل ابیب کے قریب میزائل گرنے سے کئی افراد زخمی ہوئے ہیں۔
دوسری جانب پاسدارانِ انقلاب نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اس نے اسرائیل کے شہر حیفا میں واقع سیٹلائٹ کمیونیکیشن سینٹر سمیت اسرائیل کے فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے۔
ایرانی بیان میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ حملوں میں مشرقِ وسطیٰ میں امریکی اہداف کو بھی نشانہ بنایا گیا جن میں عراقی کردستان اور بحرین میں امریکی پانچویں بحری بیڑے کے اڈے شامل ہیں۔
پاسدارانِ انقلاب نے اپنی ویب سائٹ سپاہ نیوز پر جاری بیان میں کہا ہے کہ ہم اپنے حملے پوری طاقت اور عزم کے ساتھ جاری رکھیں گے اور اس جنگ میں دشمن کی مکمل شکست کے سوا کچھ نہیں سوچ رہے۔”
خطے میں کشیدگی میں اضافہ
حالیہ حملوں کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں سیکیورٹی صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی ہے جبکہ خلیجی ممالک نے اپنے دفاعی نظام کو ہائی الرٹ کر دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ حملے اسی شدت سے جاری رہے تو پورا خطہ ایک بڑے تصادم کی طرف بڑھ سکتا ہے۔
