ایران اور دوسری جانب امریکا و اسرائیل کے درمیان جاری جنگ کے 13ویں دن امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ تہران شکست کے قریب پہنچ چکا ہے اور اس تنازع میں واشنگٹن کی پوزیشن پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہو گئی ہے،اپنے بیان میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے خلاف جاری جنگ میں امریکا کو نمایاں برتری حاصل ہے۔ ان کے مطابق حالیہ کارروائیوں کے بعد ایران اپنی فضائی اور بحری دونوں افواج کی بڑی صلاحیتوں سے محروم ہو چکا ہے اور اب تہران کے پاس فضائی حملوں سے دفاع کے لیے کوئی مؤثر نظام باقی نہیں رہا۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو امریکا ایران کے خلاف اس سے کہیں زیادہ سخت کارروائی بھی کر سکتا ہے۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ امریکا خطے کی صورتحال خصوصاً آبنائے ہرمزپر گہری نظر رکھے ہوئے ہے، خاص طور پر اس کے بعد جب ایران کی جانب سے اس اہم سمندری راستے سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کو دھمکیاں دی گئیں۔دوسری جانب ایران کی طاقتور فوجی اسلامی انقلابی گارڈزنے خبردار کیا تھا کہ اگر امریکا اور اسرائیل کے حملے بند نہ ہوئے تو آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل روک دی جائے گی۔
بحری سلامتی اور خطرات کے جائزے سے متعلق اداروں نے بدھ کو بتایا کہ آبنائے ہرمز میں تین جہازوں پر نامعلوم گولوں سے حملہ کیا گیا۔ اسی طرح اطلاعات ہیں کہ دھماکہ خیز مواد سے لدی کشتیوں کے ذریعے عراقی پانیوں میں دو تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنایا گیا۔ان تازہ حملوں کے بعد جنگ شروع ہونے کے بعد سے خطے میں نشانہ بننے والے جہازوں کی تعداد کم از کم 16 تک پہنچ گئی ہے۔یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آبنائے ہرمز میں جہاز رانی تقریباً معطل ہونے کے قریب پہنچ چکی ہے۔ یہ سمندری راستہ عالمی معیشت کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے کیونکہ یہاں سے دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔
28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے آغاز کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 2022 کے بعد بلند ترین سطح تک پہنچ گئی ہیں۔ توانائی کے ماہرین کے مطابق اگر آبنائے ہرمز میں کشیدگی مزید بڑھی تو عالمی معیشت پر اس کے سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
اگرچہ صدر ٹرمپ ایران کو کمزور قرار دے رہے ہیں، لیکن امریکی انٹیلی جنس ذرائع اس حوالے سے مختلف مؤقف پیش کر رہے ہیں۔تین باخبر ذرائع کے مطابق امریکی خفیہ اداروں کا خیال ہے کہ ایرانی قیادت اب بھی کافی حد تک مضبوط اور متحد ہے اور فی الحال حکومت کے فوری طور پر گرنے کا کوئی واضح خطرہ نہیں۔ان ذرائع میں سے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ متعدد انٹیلی جنس رپورٹس اس بات پر متفق ہیں کہ ایرانی نظام فوری طور پر کسی بحران یا انہدام کے خطرے سے دوچار نہیں اور وہ اب بھی عوامی رائے پر خاصا کنٹرول رکھتا ہے۔ یہ بات خبر رساں ادارے رائٹرزنے نقل کی ہے۔
یاد رہے کہ جنگ کے آغاز سے اب تک امریکا اور اسرائیل ایران کے مختلف فوجی اہداف پر سینکڑوں فضائی حملے کر چکے ہیں۔ ان حملوں میں فضائی دفاعی نظام، جوہری تنصیبات اور اعلیٰ فوجی قیادت کو نشانہ بنایا گیا۔ان کارروائیوں کے دوران سابق سپریم لیڈرعلی خامنہ ای سمیت درجنوں اعلیٰ حکام مارے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جن میں سابق وزیر دفاع اور ان کے جانشین کے علاوہ پاسدارانِ انقلاب کے کئی سینئر کمانڈر بھی شامل تھے۔
پاسدارانِ انقلاب ایران کی ایک طاقتور فوجی قوت سمجھی جاتی ہے جو نہ صرف ملکی دفاع میں اہم کردار ادا کرتی ہے بلکہ ایران کی معیشت کے بڑے حصے پر بھی اثر و رسوخ رکھتی ہے۔سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق تہران ممکنہ طور پر طویل اور تھکا دینے والی جنگ کی حکمت عملی اختیار کر سکتا ہے، اگرچہ اسے بھاری نقصانات اٹھانے پڑے ہیں۔دوسری جانب امریکی انتظامیہ نے جنگ کے خاتمے کے لیے کوئی واضح ٹائم لائن نہیں دی۔ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران میں زیادہ تر اہداف حاصل کر لیے گئے ہیں، تاہم کارروائیاں جاری رہ سکتی ہیں۔ادھر اسرائیلی حکام نے بھی اس تنازع کے خاتمے کے لیے کوئی حتمی تاریخ نہیں دی، تاہم بعض عہدیداروں کا کہنا ہے کہ یہ جنگ ایک ماہ یا اس سے زیادہ عرصے تک جاری رہ سکتی ہے۔
