تہران: ایرانی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) نے کہا ہے کہ اس سال دنیا یومِ القدس کو ایک مختلف اور غیر معمولی انداز میں دیکھے گی، کیونکہ خطے میں جاری کشیدگی اور ایران کی حالیہ کارروائیوں نے حالات کو ایک نئے مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق پاسدارانِ انقلاب گارڈز کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ القدس کی آزادی اب دور نہیں رہی اور یہ کامیابی مظلوموں اور آزادی کے متلاشیوں کی پہنچ میں ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ فلسطینی عوام کی جدوجہد اور مزاحمت کی قوت دن بدن مضبوط ہو رہی ہے اور خطے میں طاقت کا توازن بدل رہا ہے۔
پاسدارانِ انقلاب کے مطابق “آپریشن وعدہ صادق 4” کے تحت کارروائیاں مسلسل جاری ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ اس آپریشن کی 44ویں لہر آج صبح القدس کے شہداء کی یاد میں شروع کی گئی جس کے دوران میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے مختلف اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
ایرانی فوج کے مطابق اس کارروائی میں نہ صرف اسرائیلی اہداف بلکہ خطے میں موجود امریکی فوجی تنصیبات بھی نشانے پر آئیں۔ بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ رمضان المبارک کی 23ویں بابرکت صبح پانچویں امریکی بحری بیڑے اور امریکی اڈوں کو بھی حملوں کا ہدف بنایا گیا۔
پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں ایک مسلسل اور جامع فوجی حکمتِ عملی کا حصہ ہیں جس کے تحت میزائلوں اور جدید ڈرونز کے ذریعے اسرائیلی اہداف کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ایرانی حکام کا دعویٰ ہے کہ یہ آپریشن اس وقت تک جاری رہے گا جب تک خطے میں فلسطینی عوام کے حقوق اور القدس کی آزادی کا مقصد حاصل نہیں ہو جاتا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایران اور اس کے اتحادی خطے میں مزاحمتی محاذ کو مزید مضبوط بنانے کے لیے سرگرم ہیں اور اسرائیل کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کے اس بیان اور تازہ حملوں کے دعوؤں کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے، جبکہ عالمی برادری اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
