تہران: ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے پہلے آڈیو پیغام میں انکشاف کیا ہے کہ ان کے والد اور سابق ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو 10 رمضان کے روز قرآن پاک کی تلاوت کے دوران شہید کر دیا گیا تھا۔
اپنے پیغام میں مجتبیٰ خامنہ ای نے والد کی شہادت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ سانحہ ایسے وقت پیش آیا جب خطے میں کشیدگی اور جنگی صورتحال پہلے ہی شدت اختیار کر رہی تھی، جس کے باعث یہ نقصان ایرانی قوم کے لیے گہرے صدمے کا باعث بنا۔
نئے سپریم لیڈر نے ایرانی عوام سے صبر، استقامت اور اتحاد کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ملک کو اس نازک اور مشکل وقت میں یکجہتی کی اشد ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایرانی قوم کو متحد ہو کر موجودہ چیلنجز کا مقابلہ کرنا ہوگا۔
مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ ایران اپنے دشمنوں کے سامنے جھکنے والا نہیں اور ملک کی خودمختاری اور سلامتی کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر خطے میں موجود امریکی فوجی اڈے بند نہ کیے گئے تو ایران اپنے حملے جاری رکھے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ دشمن کے ہاتھوں شہید ہونے والے ہر فرد کے خون کا بدلہ لیا جائے گا۔
نئے ایرانی سپریم لیڈر نے مزید کہا کہ ایران اپنے دشمنوں کے خلاف ڈٹ کر کھڑا رہے گا اور کسی بھی دباؤ یا دھمکی کو قبول نہیں کرے گا، جبکہ ملک کے دفاع اور وقار کے تحفظ کے لیے ہر سطح پر جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔
