بدلتی ہوئی علاقائی صورتحال اور مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کے دوران افغانستان میں ایران کے سفیر حسن کاظمی قمی نے بگرام ایئر بیس کے ممکنہ دوبارہ فوجی استعمال پر سخت ردعمل دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اس اہم فوجی تنصیب کو غیر ملکی افواج کے لیے دوبارہ فعال کرنے کی کسی بھی کوشش کو خطے کے امن کے لیے سنگین خطرہ سمجھا جائے گا۔
افغان میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ایرانی سفیر نے کہا کہ بگرام ایئر بیس ایک حساس اور اسٹریٹجک فوجی مرکز ہے، جسے ماضی میں دو دہائیوں تک جاری رہنے والی بین الاقوامی فوجی مداخلت کی علامت سمجھا جاتا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس اڈے کا مستقبل صرف اور صرف افغان حکومت کے مکمل اور خودمختار کنٹرول میں ہونا چاہیے۔
ایرانی سفیر نے واضح کیا کہ افغانستان کی سرزمین کو کسی بھی غیر ملکی طاقت کے فوجی مقاصد کے لیے استعمال کرنا نہ صرف افغانستان بلکہ پورے خطے کے استحکام کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق خطے کے ممالک کو چاہیے کہ وہ افغانستان کی خودمختاری اور علاقائی امن کو اولین ترجیح دیں۔
ایران کے سفیر نے اس بات پر زور دیا کہ افغانستان میں کسی غیر ملکی فوجی موجودگی کی بحالی سے خطے میں نئی کشیدگی پیدا ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ بیس سالوں میں افغانستان میں بیرونی فوجی مداخلت نے نہ صرف ملک کے اندرونی حالات کو متاثر کیا بلکہ پورے خطے میں عدم استحکام کو بھی جنم دیا۔
انہوں نے کہا کہ اب جب افغانستان میں نئی سیاسی صورتحال قائم ہو چکی ہے تو ضروری ہے کہ اس ملک کو علاقائی تعاون اور اقتصادی ترقی کی طرف بڑھنے کا موقع دیا جائے، نہ کہ اسے دوبارہ عالمی طاقتوں کے فوجی مقابلے کا میدان بنایا جائے۔
ایرانی سفیر حسن کاظمی قمی نے اس بات پر زور دیا کہ افغانستان کی سرزمین پر موجود تمام اسٹریٹجک تنصیبات کا کنٹرول صرف افغان حکومت کے پاس ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی بیرونی طاقت کی فوجی موجودگی نہ صرف افغان خودمختاری کے اصول کے خلاف ہوگی بلکہ یہ خطے میں عدم اعتماد اور کشیدگی کو بھی بڑھا سکتی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق بگرام ایئر بیس کا معاملہ ایک مرتبہ پھر علاقائی سیاست میں اہم موضوع بن رہا ہے کیونکہ یہ اڈہ ماضی میں امریکہ اور اتحادی افواج کے لیے افغانستان میں سب سے بڑا فوجی مرکز تھا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مستقبل میں اس اڈے کو کسی غیر ملکی فوجی مقصد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی گئی تو اس کے اثرات نہ صرف افغانستان بلکہ پورے وسطی اور جنوبی ایشیا کے سکیورٹی ماحول پر پڑ سکتے ہیں۔
