امریکہ کی فوجی کمان United States Central Command (سینٹرل کمانڈ) نے اعلان کیا ہے کہ جدید اسٹیلتھ B-2 Spirit bomber طیاروں کو ایران پر حملوں کے لیے روانہ کر دیا گیا ہے، جس سے مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق اس کارروائی کا مقصد ایران کے ممکنہ خطرے کو ختم کرنا اور اسے دوبارہ اپنی فوجی طاقت بحال کرنے سے روکنا ہے۔
اس سے قبل امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایران کی قیادت زیرِ زمین پناہ گاہوں میں جا چکی ہے اور آج ایران کے خلاف انتہائی سخت حملے کیے جائیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکی کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک ایران کی فوجی صلاحیتوں کو مکمل طور پر غیر مؤثر نہیں بنا دیا جاتا۔
امریکی وزیر دفاع کے مطابق ایران کے خلاف جاری فضائی مہم میں امریکی فضائیہ اور اسرائیل کی فضائیہ مشترکہ طور پر کارروائیاں کر رہی ہیں اور اب تک روزانہ اوسطاً ایک ہزار سے زیادہ حملے کیے جا رہے ہیں۔ ان حملوں کے نتیجے میں ایران کی میزائل، ڈرون اور دیگر فوجی صلاحیتوں کو نمایاں نقصان پہنچا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کی حکمت عملی کا مقصد ایران کی تمام اہم فوجی صلاحیتوں کو تباہ یا غیر فعال کرنا ہے۔ اس سلسلے میں آئندہ دنوں میں ایران کی دفاعی صنعت سے وابستہ کمپنیوں اور تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
پیٹ ہیگسیتھ نے یہ بھی کہا کہ خلیج میں واقع اہم آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی صورتحال پر عالمی برادری کو زیادہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، کیونکہ امریکہ اور اس کے اتحادی خطے میں جہاز رانی اور توانائی کی ترسیل کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں
