ایران کی مسلح افواج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل ابوالفضل شکارچی نے مسلم ممالک سے اپیل کی ہے کہ وہ عالمِ اسلام کے مفادات کے تحفظ اور خطے کے استحکام کے لیے متحد ہو جائیں۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ مسلم دنیا کو امریکا اور صہیونی قیادت میں چلنے والی مبینہ منافقانہ پالیسیوں کے خلاف مشترکہ مؤقف اختیار کرنا ہوگا۔
جنرل شکارچی نے کہا کہ مسلم ممالک کو امریکا کی کھوکھلی طاقت پر بھروسہ نہیں کرنا چاہیے کیونکہ امریکا نہ تو اپنی کمزور فوج کا مؤثر دفاع کر سکتا ہے اور نہ ہی مشرقِ وسطیٰ سمیت مسلم دنیا کے امن و استحکام کی ضمانت دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وقت آ گیا ہے کہ مسلم ممالک باہمی اتحاد کے ذریعے اپنی سلامتی اور خودمختاری کو مضبوط بنائیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے امریکی بحری بیڑے کے اہم طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن کو میزائلوں کے ذریعے نشانہ بنا کر عملی طور پر بے اثر کر دیا۔ ان کے مطابق اس کارروائی کے نتیجے میں امریکی جہاز کو پسپائی اختیار کرنا پڑی۔
ایرانی فوجی ترجمان نے اس واقعے کو “تاریخی شکست” قرار دیتے ہوئے کہا کہ جدید دفاعی حکمتِ عملی اور میزائل صلاحیت کے باعث ایران نے امریکی جنگی طاقت کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ واقعہ خطے میں طاقت کے توازن میں ایک نئی حقیقت کو ظاہر کرتا ہے۔
جنرل شکارچی نے مزید کہا کہ ایران کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اس کی دفاعی طاقت خطے میں امن کے لیے ایک مضبوط عنصر بن چکی ہے۔ انہوں نے مسلم دنیا کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ اتحاد، خود انحصاری اور مشترکہ حکمتِ عملی ہی عالمِ اسلام کو بیرونی دباؤ سے محفوظ رکھ سکتی ہے۔
