مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے، جہاں اسرائیل کے وزیرِ دفاع یوآو گالانت (کاتز کے طور پر رپورٹ کیا گیا) نے ایک تہلکہ خیز دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کی اعلیٰ قیادت کو بڑا دھچکا پہنچا ہے۔ ان کے مطابق ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی کو گزشتہ رات ایک کارروائی میں ہلاک کر دیا گیا۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اسرائیل نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ ایرانی پیراملٹری رضاکار فورس بسیج کے سربراہ غلام رضا سلیمانی بھی اسی کارروائی میں مارے گئے ہیں۔ یہ دعوے ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب پہلے ہی خطے میں ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے۔
اسرائیلی وزیرِ دفاع نے اپنے بیان میں کہا کہ انہیں یہ اطلاع براہِ راست فوج کے سربراہ کی جانب سے موصول ہوئی، جس میں بتایا گیا کہ دونوں اہم شخصیات کو “گذشتہ رات ختم کر دیا گیا۔” ان کا کہنا تھا کہ یہ کارروائی اسرائیل کی سکیورٹی حکمتِ عملی کا حصہ ہے، جس کا مقصد ممکنہ خطرات کو قبل از وقت ختم کرنا ہے۔
تاہم ایران کی جانب سے اس دعوے پر فوری طور پر کوئی تصدیق یا ردعمل سامنے نہیں آیا، جس کے باعث صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ دعوے درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ خطے میں ایک بڑے تصادم کا پیش خیمہ بن سکتے ہیں۔
عالمی سطح پر بھی اس پیش رفت پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے، کیونکہ اس طرح کے واقعات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی امن کے لیے بھی خطرہ بن سکتے ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال کسی بھی وقت بڑے بحران میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
