تل ابیب: اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے ایرانی قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری جنرل علی لاریجانی کی ہلاکت کے بعد ایک بار پھر ایرانی عوام سے اپنی حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔
اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ منگل کے روز ایران کے اہم عہدے دار علی لاریجانی کو نشانہ بنایا گیا۔ ان کے بقول لاریجانی پاسداران انقلاب کے ایک اعلیٰ سطح کے سویلین عہدے دار تھے اور سیکیورٹی معاملات میں کلیدی کردار ادا کر رہے تھے۔
بنجمن نیتن یاہو نے کہا کہ ایران کے عوام کو اپنی موجودہ حکومت کو ختم کرنے کے لیے اقدام کرنا چاہیے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ یہ عمل فوری یا آسان نہیں ہوگا، تاہم اگر مستقل مزاجی سے کوشش جاری رکھی جائے تو تبدیلی ممکن ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایرانی عوام کو اپنی تقدیر کا فیصلہ خود کرنے کا موقع ملنا چاہیے۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیر دفاع نے بھی دعویٰ کیا کہ اسرائیلی افواج نے علی لاریجانی کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی بسیج فورس کے سربراہ غلام رضا سلیمانی کو بھی ہلاک کیا گیا ہے۔ بسیج کو پاسداران انقلاب کی ایک رضاکار فورس سمجھا جاتا ہے جو داخلی سلامتی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
اسرائیلی وزیر دفاع کے مطابق یہ کارروائیاں اعلیٰ سطحی احکامات کے تحت کی گئیں۔ تاہم ایران کی جانب سے ان دعوؤں پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
یاد رہے کہ علی لاریجانی کی ہلاکت خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں ایک اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے، جس کے اثرات مشرق وسطیٰ کی مجموعی صورتحال پر مرتب ہو سکتے ہیں
