مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی ایک خطرناک موڑ اختیار کر گئی ہے جہاں اسرائیل کاٹز نے دعویٰ کیا ہے کہ اسماعیل خطیب ایک حالیہ حملے میں ہلاک ہو گئے ہیں۔ تاہم اس دعوے پر ایران کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جس سے صورتحال مزید غیر یقینی کا شکار ہے۔
اسرائیلی وزیر دفاع کے مطابق یہ کارروائی گزشتہ رات کی گئی، اور اس میں ایران کے اعلیٰ سطح کے سکیورٹی عہدیدار کو نشانہ بنایا گیا۔ بنیامین نیتن یاہو اور وزیر دفاع نے مبینہ طور پر فوج کو یہ اختیار بھی دے دیا ہے کہ وہ مزید ایرانی سینیئر عہدیداروں کو بغیر اضافی منظوری کے نشانہ بنا سکتی ہےایک ایسا فیصلہ جو خطے میں ممکنہ بڑے تصادم کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
اس سے ایک روز قبل منگل کو ایران کی بااثر شخصیت علی لاریجانی، جو سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری تھے، ایک حملے میں ہلاک ہو گئے تھے۔ اسی حملے میں غلام رضا سلیمانی بھی مارے گئے، جو ایران کی بسیج فورس کے کمانڈر تھے۔ ان پے در پے حملوں نے ایران کی عسکری و سیاسی قیادت کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔
جوابی کارروائی میں ایران نے بدھ کے روز اسرائیل کی جانب میزائلوں کی ایک بڑی تعداد فائر کی، جس کے بعد وسطی اسرائیل میں خطرے کے سائرن بج اٹھے۔ تل ابیب میں زوردار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جس سے شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
اسرائیلی ریسکیو حکام کے مطابق رامات گان میں کم از کم دو افراد ہلاک ہوئے، جبکہ متعدد زخمی بھی ہوئے ہیں۔دوسری جانب ایران کی جانب سے سعودی عرب، کویت اور دیگر عرب ممالک پر بھی میزائل اور ڈرون حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، تاہم ان ممالک کے فضائی دفاعی نظام نے بیشتر حملوں کو ناکام بنا دیا۔
ماہرین کے مطابق یہ صورتحال پورے خطے کو ایک بڑے جنگی تصادم کی طرف لے جا سکتی ہے، جس کے اثرات نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت اور سکیورٹی پر بھی مرتب ہوں گے۔عالمی برادری کی جانب سے تاحال باضابطہ ردعمل محدود ہے، تاہم مختلف ممالک کی جانب سے کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل تلاش کرنے پر زور دیا جا رہا ہے۔
