مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی توانائی منڈی کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اسرائیل کی جانب سے ایران کی گیس فیلڈ پر حملے اور اس کے جواب میں ایران کی طرف سے قطر کی آئل ریفائنری کو نشانہ بنانے کے بعد عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
عالمی منڈی میں برطانوی خام تیل کی قیمت میں 7 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد یہ بڑھ کر 111 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی۔ اسی طرح امریکی خام تیل کی قیمت میں بھی 3.1 فیصد اضافہ ہوا، جس کے بعد اس کی نئی قیمت 99.3 ڈالر فی بیرل مقرر ہو گئی ہے۔
ماہرین کے مطابق خطے میں تیزی سے بگڑتی ہوئی صورتحال کے باعث عالمی توانائی منڈی شدید غیر یقینی کا شکار ہو چکی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو تیل کی قیمتوں میں مزید تیزی آ سکتی ہے، جس کے اثرات دنیا بھر کی معیشتوں پر مرتب ہوں گے، خاص طور پر ان ممالک پر جو تیل درآمد کرتے ہیں۔
تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ اس صورتحال کے باعث نہ صرف مہنگائی میں اضافہ ہو سکتا ہے بلکہ عالمی سطح پر تجارتی سرگرمیاں بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے
