مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی ایک بار پھر خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے، جہاں اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ تازہ کارروائی میں اسرائیلی فوج نے ایران کی ساحلی جنوبی پارس گیس فیلڈ میں توانائی تنصیبات کو نشانہ بنایا، جس کے بعد خطے میں صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے۔
حملے کے نتیجے میں 25 ہزار ملین مکعب فٹ سے زائد گیس کی پیداوار معطل ہو گئی ہے۔ جنوبی پارس فیلڈ دنیا کی سب سے بڑی گیس فیلڈز میں شمار ہوتی ہے، جو ایران اور قطر کی مشترکہ ملکیت ہے، اور عالمی توانائی کی فراہمی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
ایران نے حملے پر شدید ردعمل دیتے ہوئے فوری جواب دینے کا اعلان کیا ہے۔ ایرانی حکام نے خبردار کیا ہے کہ خطے میں موجود وہ تمام تیل تنصیبات نشانے پر ہیں جو امریکی کمپنیوں کی ملکیت ہیں یا ان کے زیرِ انتظام چل رہی ہیں۔ اسی تناظر میں ایران نے سعودی عرب کی سامرف ریفائنری اور جبیل پیٹروکیمیکل کمپلیکس کے ساتھ ساتھ متحدہ عرب امارات کی الحصن گیس فیلڈ اور قطر کی راس لفان ریفائنری و مسيعيد پیٹروکیمیکل کمپلیکس کو بھی ممکنہ اہداف قرار دیا ہے۔
قطر کے راس لفان صنعتی شہر پر حملے کے بعد وہاں واقع تنصیبات میں آگ بھڑک اٹھی، جس سے شدید نقصان کی اطلاعات ہیں۔ راس لفان بندرگاہ پر دنیا کی سب سے بڑی ایل این جی برآمدی تنصیب قائم ہے، اور اس حملے کے بعد عالمی سطح پر ایل این جی کی سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔
ایران کےصدر مسعودپزیشکیان نے کہا ہے کہ ایرانی توانائی تنصیبات پر حملے خطے میں مزید پیچیدگیاں پیدا کریں گے اور صورتحال عالمی سطح پر قابو سے باہر ہو سکتی ہے۔
دوسری جانب قطر نے بھی ایرانی تنصیبات پر اسرائیلی حملے کو خطرناک اور غیر ذمہ دارانہ قرار دیا ہے۔ قطری وزارت خارجہ کے مطابق اسرائیل نے ان توانائی تنصیبات کو نشانہ بنایا جو جنوبی پارس فیلڈ سے منسلک ہیں اور درحقیقت قطر کے شمالی گیس میدان کی توسیع کا حصہ ہیں۔ قطری وزیر خارجہ نے خبردار کیا کہ توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانا عالمی توانائی کے تحفظ کے لیے سنگین خطرہ ہے۔
متحدہ عرب امارات نے بھی اس حملے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران میں واقع پارس جنوبی فیلڈ قطر کے شمالی میدان سے جڑی ہوئی ہے، اور اس حساس مقام کو نشانہ بنانا عالمی توانائی کے استحکام کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ اماراتی حکام نے تمام فریقین پر زور دیا ہے کہ اہم تنصیبات کو نشانہ بنانے سے گریز کیا جائے۔
ماہرین کے مطابق اس بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث نہ صرف عالمی تیل و گیس کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے بلکہ توانائی کی عالمی سپلائی چین بھی شدید متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
