ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایک سخت بیان جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا اور اسرائیل کے ساتھ جاری کشیدگی کے دوران ایران کی توانائی تنصیبات پر دوبارہ حملہ کیا گیا تو تہران کسی قسم کا تحمل نہیں دکھائے گا۔
انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ایکس” پر اپنے پیغام میں کہا کہ ایران نے اب تک اپنے دفاع میں اپنی مکمل طاقت استعمال نہیں کی بلکہ صرف محدود ردعمل دیا ہے، اور اس کی بنیادی وجہ کشیدگی کو کم کرنے کی عالمی اپیلوں کا احترام ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اگر مستقبل میں ایران کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا تو اس بار ردعمل مختلف اور سخت ہوگا۔
یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خبر رساں ادارے رائٹرز نے تین اسرائیلی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ ایران کے جنوبی پارس گیس فیلڈ پر حملہ مبینہ طور پر اسرائیل نے امریکا کے ساتھ ہم آہنگی میں کیا تھا، تاہم اس نوعیت کے حملوں کے دوبارہ ہونے کا امکان کم ظاہر کیا گیا ہے۔ جنوبی پارس گیس فیلڈ پر حملے کے بعد خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا اور ایران نے جواباً خطے کے دیگر توانائی مراکز کو نشانہ بنانے کی کارروائیاں شروع کیں۔
اسرائیل نے جنوبی پارس حملے کی ذمہ داری باضابطہ طور پر قبول نہیں کی، جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ امریکا کو اس حملے کا پیشگی علم نہیں تھا اور اسرائیل دوبارہ ایسا حملہ نہیں کرے گا جب تک ایران کسی اور ملک، خصوصاً قطر پر کارروائی نہ کرے۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیلی حکام نے اس صورتحال کو غیر معمولی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ امریکی بیانات سے حیران نہیں ہیں اور ماضی میں بھی اسی نوعیت کی صورتحال دیکھی جا چکی ہے، جب حملوں کے بعد فریقین نے ایک دوسرے سے لاتعلقی ظاہر کی۔ اسی تناظر میں چند ہفتے قبل پیٹ ہیگستھ نے بھی کہا تھا کہ بعض کارروائیاں امریکا کی جانب سے نہیں تھیں۔
ماہرین کے مطابق توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے نہ صرف ایران بلکہ پورے خطے کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں، کیونکہ اس سے عالمی توانائی سپلائی متاثر ہونے کے ساتھ ساتھ کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔ موجودہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ خطہ ایک نہایت حساس اور غیر مستحکم مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، جہاں کسی بھی نئی کارروائی کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔
