امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے بجلی گھروں پر ممکنہ حملوں کو پانچ دن کے لیے مؤخر کرنے اور امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی تصدیق کے بعد بنجمن نیتن یاہو نے سخت ردعمل دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ اسرائیل کسی بھی “برے معاہدے” کی راہ میں رکاوٹ بنے گا۔
تل ابیب میں اپنے دفتر سے جاری بیان میں نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل ایران کو ایک ایسی پوزیشن میں لے جانے کے لیے کام کر رہا ہے جہاں وہ پہلے کبھی نہیں تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران مسلسل زوال کا شکار ہے اور اسرائیل اس پر دباؤ برقرار رکھے گا۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایک باخبر ذریعے نے انکشاف کیا ہے کہ واشنگٹن نے اسرائیل کو تہران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات سے مکمل طور پر آگاہ رکھا ہے۔ اس کے ساتھ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اسرائیل، امریکہ کی پالیسی کی پیروی کرتے ہوئے، عارضی طور پر ایرانی بجلی گھروں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے روک سکتا ہے۔
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا پلیٹ فارم Truth Social پر اعلان کیا کہ ایران کے ساتھ “انتہائی مثبت اور تعمیری” مذاکرات جاری ہیں، اور انہی کے پیش نظر امریکی محکمہ دفاع کو حملے مؤخر کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
دوسری جانب تہران نے ایک بار پھر امریکہ کے ساتھ کسی بھی براہِ راست یا بالواسطہ مذاکرات کی تردید کر دی ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ کشیدگی کم کرنے کے لیے مختلف تجاویز زیرِ غور ہیں، تاہم ایران نے جنگ کا آغاز نہیں کیا اور وہ اپنے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
یاد رہے کہ ٹرمپ نے حال ہی میں ایران کو آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے ڈیڈ لائن دیتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ بصورتِ دیگر ایرانی توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنایا جائے گا۔ اس کے جواب میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دھمکی دی تھی کہ اگر ایران کے بجلی نیٹ ورک کو نشانہ بنایا گیا تو وہ اسرائیلی پاور پلانٹس اور خطے میں امریکی اڈوں کو توانائی فراہم کرنے والی تنصیبات پر حملہ کریں گے۔
دریں اثنا، آج اسرائیل کی سکیورٹی کابینہ کا ایک اہم اجلاس متوقع ہے، جس میں ایران اور لبنان کے ساتھ جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔
ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال انتہائی حساس مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، جہاں ایک طرف سفارتی کوششیں جاری ہیں تو دوسری جانب کسی بھی وقت دوبارہ بڑے پیمانے پر فوجی تصادم کا خدشہ بھی برقرار ہے۔
