مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی ہوئی سیاسی و عسکری صورتحال کے درمیان ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان ممکنہ معاہدے کے حوالے سے اہم پیش رفت سامنے آ رہی ہے، جس نے عالمی سطح پر توجہ حاصل کر لی ہے۔ ایک جانب جہاں سفارتی کوششیں تیز ہو رہی ہیں، وہیں دوسری طرف عسکری دباؤ اور بیانات بھی اس پیچیدہ صورتحال کو مزید حساس بنا رہے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں اس بات کا عندیہ دیا ہے کہ ایران کے ساتھ کسی ممکنہ تصفیے کی راہ ہموار ہو رہی ہے۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ تہران اب مذاکرات کے لیے آمادہ نظر آ رہا ہے اور ابتدائی بات چیت کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ ان کے مطابق ایران نے اس بات پر رضامندی ظاہر کی ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا، جو کہ کسی بھی معاہدے کی بنیادی شرط سمجھی جا رہی ہے۔ ٹرمپ نے اس پیش رفت کو ایک اہم موقع قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران کو اس موقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے، کیونکہ یہ اس کے لیے ایک فیصلہ کن مرحلہ ثابت ہو سکتا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ مجوزہ معاہدے میں ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخائر کو ختم کرنے جیسے نکات شامل ہو سکتے ہیں، جو عالمی برادری کے لیے طویل عرصے سے باعث تشویش رہے ہیں۔ امریکی صدر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ان کا ہدف یہ ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام کو مکمل طور پر محدود کیا جائے اور اسے پرامن مقاصد تک رکھا جائے۔
اس تمام صورتحال کے بیچ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کا مؤقف بھی خاصا اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ ایران کے ساتھ ہونے والا کوئی بھی معاہدہ اس وقت تک قابل قبول نہیں ہوگا جب تک وہ اسرائیل کے بنیادی مفادات اور سلامتی کے تقاضوں کو پورا نہ کرے۔ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ کوئی بھی ایسا معاہدہ نہ ہو جو اسرائیل کے لیے نقصان دہ ثابت ہو۔
نیتن یاہو نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ان کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ براہ راست بات چیت ہوئی ہے، جس میں دونوں رہنماؤں نے خطے کی موجودہ صورتحال اور آئندہ حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا۔ ان کے مطابق ٹرمپ کا خیال ہے کہ حالیہ عسکری کامیابیوں کو ایران کے ساتھ مذاکرات میں بطور دباؤ استعمال کیا جا سکتا ہے، تاکہ بہتر شرائط حاصل کی جا سکیں۔
اسرائیلی وزیراعظم نے اس عزم کا اعادہ بھی کیا کہ ایران اور لبنان میں جاری کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی، جب تک کہ مطلوبہ سیکیورٹی اہداف حاصل نہ ہو جائیں۔ انہوں نے اس سے قبل بھی خبردار کیا تھا کہ اسرائیل کسی ایسے معاہدے کی راہ میں رکاوٹ بنے گا جو اس کی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتا ہو، جسے انہوں نے "خراب معاہدہ” قرار دیا تھا۔
دوسری جانب، خطے میں کشیدگی کے باوجود سفارتی سطح پر ایک وقفہ بھی دیکھنے میں آیا ہے۔ امریکی صدر نے ایرانی توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانے والے ممکنہ فوجی حملوں کو عارضی طور پر مؤخر کرنے کا اعلان کیا، جس کے لیے پانچ دن کی مہلت دی گئی۔ اس فیصلے کو ایک سفارتی موقع کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس کا مقصد مذاکرات کو آگے بڑھانے کے لیے فضا کو سازگار بنانا ہے۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب جنگ اپنے چوتھے ہفتے میں داخل ہو رہی تھی اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ اگر کشیدگی میں کمی نہ آئی تو صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس مہلت سے دونوں فریقین کو بات چیت کے ذریعے کسی ممکنہ حل تک پہنچنے کا موقع مل سکتا ہے۔
موجودہ حالات میں یہ واضح ہے کہ ایک طرف جہاں عسکری کارروائیاں جاری ہیں، وہیں دوسری جانب سفارتی کوششیں بھی زور پکڑ رہی ہیں۔ عالمی برادری اس بات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے کہ آیا یہ مذاکرات کسی مثبت نتیجے تک پہنچتے ہیں یا نہیں۔ اگرچہ ایران کی جانب سے نرم مؤقف کے اشارے مل رہے ہیں، تاہم اسرائیل کی سخت پوزیشن اس عمل کو پیچیدہ بنا سکتی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر کوئی معاہدہ طے پاتا ہے تو اس کے خطے کی سیاست، سلامتی اور عالمی توانائی منڈیوں پر دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔ تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ تمام فریقین اپنے مؤقف میں لچک پیدا کریں اور ایک متوازن حل تلاش کریں جو نہ صرف سلامتی کے خدشات کو دور کرے بلکہ خطے میں پائیدار امن کی بنیاد بھی رکھے۔
مشرقِ وسطیٰ ایک نازک مرحلے سے گزر رہا ہے جہاں ہر بیان، ہر فیصلہ اور ہر قدم آنے والے حالات کا رخ متعین کر سکتا ہے۔ آنے والے دن اس بات کا تعین کریں گے کہ آیا یہ پیش رفت ایک بڑے تصفیے کی جانب بڑھ رہی ہے یا کشیدگی مزید شدت اختیار کرے گی۔
