ایران نے خطے میں ممکنہ جنگ کے خطرے کو روکنے کے لیے امریکا اور اسرائیل کے لیے چھ اسٹریٹجک شرائط تیار کی ہیں، جو علاقائی ثالثوں اور پارٹیوں کی سفارشات کے بعد پیش کی گئی ہیں۔ نجی میڈیا کے مطابق ایک نام ظاہر نہ کرنے والے ایرانی اہلکار نے بتایا کہ یہ شرائط نئے قانونی اسٹریٹجک فریم ورک کے تحت طے کی گئی ہیں، اور ان کا مقصد خطے میں کشیدگی کو کم کرنا اور ممکنہ فوجی جھڑپوں سے بچنا ہے۔ ان چھ شرائط میں سب سے پہلی شرط یہ ہے کہ کسی بھی طرح کی جنگ دوبارہ نہ شروع ہو، تاکہ خطے میں استحکام قائم رہے۔
دوسری شرط میں امریکی فوجی اڈوں کو خطے سے بند کرنے کا مطالبہ شامل ہے، جبکہ تیسری شرط جارح قوت کو پیچھے دھکیلنے اور ایران کو ہرجانے کی ادائیگی کے حق میں ہے۔ چوتھی شرط تمام علاقائی فرنٹس پر جاری جنگ کو ختم کرنا، پانچویں شرط آبنائے ہرمز کے لیے نئے قانونی رجیم پر عملدرآمد اور چھٹی شرط ایران مخالف میڈیا آپریشنز کے خلاف قانونی کارروائی اور انہیں ملک بدر کرنے سے متعلق ہے۔ ایرانی اہلکار نے واضح کیا کہ یہ شرائط کس ثالث کے ذریعے امریکا اور اسرائیل کو پیش کی گئی ہیں، اس بارے میں تفصیلات ظاہر نہیں کی گئیں۔
ماہرین کے مطابق ایران کی یہ چھ شرائط نہ صرف ممکنہ جنگ کی روک تھام بلکہ خطے میں ایک قانونی اور سیاسی فریم ورک قائم کرنے کی کوشش کا حصہ ہیں۔ یہ اقدامات ایران کی طرف سے سفارتی اور قانونی سطح پر کشیدگی کم کرنے کی سنجیدہ حکمت عملی ہیں، جس میں علاقائی ثالثوں کے کردار کو بھی اہم قرار دیا گیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر امریکا اور اسرائیل ایران کی یہ شرائط قبول کر لیں تو خطے میں امن و استحکام کو برقرار رکھنے کے امکانات بڑھ جائیں گے، جبکہ کسی بھی ردعمل کی صورت میں تناؤ مزید بڑھ سکتا ہے۔
یہ واضح ہے کہ ایران اپنی سیکیورٹی اور علاقائی اثر و رسوخ کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک متوازن اور قانونی طریقہ کار اختیار کر رہا ہے تاکہ ممکنہ فوجی تصادم سے بچا جا سکے اور علاقائی ممالک کے درمیان کشیدگی کم کی جا سکے۔ اس سے نہ صرف ایران بلکہ پورے خطے میں عالمی سرمایہ کاری، تجارتی سرگرمیوں اور بین الاقوامی تعلقات پر بھی مثبت اثرات مرتب ہونے کے امکانات ہیں۔
