ایرانی پاسداران انقلاب گارڈز نے ایک انتہائی سنگین دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے اسرائیل کے ساتھ ساتھ کویت، اردن اور بحرین میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے۔ پاسداران انقلاب کے مطابق یہ حملے میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے کیے گئے ہیں، جس سے دشمن کو بھاری جانی اور مالی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔
پاسداران انقلاب گارڈز کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں ایران کے دفاعی مفادات کے تحفظ اور اپنے علاقائی اثر و رسوخ کو قائم رکھنے کے لیے کی گئی ہیں۔ ایران کا دعویٰ ہے کہ ان حملوں کا مقصد دشمن کی فوجی طاقت کو کمزور کرنا اور خطے میں اپنی حکمت عملی کو مزید مستحکم کرنا تھا۔
ایرانی حکام نے حملوں میں کامیابی کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کارروائیوں نے دشمن کی فوجی استعداد کو شدید نقصان پہنچایا ہے، تاہم حملوں کے نتیجے میں ہونے والے جانی نقصان یا انفراسٹرکچر کی تفصیلات ابھی تک سرکاری طور پر تصدیق نہیں کی جا سکیں۔
دوسری جانب، امریکی حکام کی جانب سے ابھی تک اس دعوے پر کوئی تفصیلی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، اور نہ ہی ان حملوں کے بارے میں کسی قسم کی اطلاعات کی تصدیق کی گئی ہے۔ تاہم، یہ حملے اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ ایران اور اس کے پڑوسی ممالک کے درمیان علاقائی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
یہ حملے ایران اور امریکہ کے تعلقات میں مزید کشیدگی کی نشاندہی کرتے ہیں، جو کہ پہلے ہی متعدد عالمی تنازعات میں ایک دوسرے کے خلاف براہ راست اور بالواسطہ محاذ آرائی میں ملوث ہیں۔ ایران کے اس حملے کے نتیجے میں مشرق وسطیٰ کے خطے میں ممکنہ طور پر مزید بدامنی اور کشیدگی پیدا ہو سکتی ہے۔
