ایران نے ایک بار پھر پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو مثبت اور مضبوط قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنے پڑوسی ممالک کے ساتھ ہم آہنگی اور خطے میں امن کے قیام کے لیے سنجیدہ کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ایک اہم انٹرویو میں واضح کیا کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات نہ صرف خوشگوار ہیں بلکہ ایران، پاکستان کی نیک نیتی پر بھی اعتماد رکھتا ہے۔
ترجمان کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی مسلسل خطے کے ممالک کے وزرائے خارجہ سے رابطے میں ہیں، جن میں پاکستان بھی شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ علاقائی کشیدگی کے باوجود تمام پڑوسی ممالک صورتحال کو بہتر بنانے اور تناؤ کم کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔
اسماعیل بقائی نے انکشاف کیا کہ مختلف علاقائی اور عالمی ممالک نے ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے ثالثی کی پیشکش کی ہے۔ تاہم ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنی خودمختاری اور دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی اور اسرائیل کی جانب سے مذاکرات کی باتیں قابلِ اعتبار نہیں رہیں، کیونکہ ماضی میں سفارتی عمل کے دوران ایران کو نشانہ بنایا گیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ نو ماہ میں دو مرتبہ ایسے واقعات پیش آئے جب ایران مذاکرات میں مصروف تھا مگر اس دوران حملے کیے گئے، جسے ایران سفارتکاری کے ساتھ “غداری” قرار دیتا ہے۔ترجمان نے بتایا کہ گزشتہ 24 دنوں کے دوران ایران اور امریکا کے درمیان کوئی براہ راست رابطہ نہیں ہوا۔ اس دوران ایرانی مسلح افواج ملک کی علاقائی سالمیت کے دفاع کے لیے مکمل طور پر متحرک ہیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران نے مغربی ایشیا میں امریکی مفادات اور مقبوضہ علاقوں میں اسرائیلی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے اور اگر ایران کے بنیادی ڈھانچے پر مزید حملے کیے گئے تو اس کا فوری، فیصلہ کن اور مؤثر جواب دیا جائے گا۔ایران نے آبنائے ہرمز کے حوالے سے بھی سخت مؤقف اختیار کیا ہے۔ ترجمان کے مطابق ایران اس اہم بحری راستے سے محفوظ گزرگاہ فراہم کرنے کے لیے فیس وصولی جاری رکھے گا، جبکہ جنگی حالات کے باعث اضافی حفاظتی اقدامات بھی نافذ کیے گئے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ جو ممالک ایران کے خلاف جارحیت میں شامل نہیں، وہ ایرانی حکام سے رابطہ اور ہم آہنگی کے بعد اپنی جہاز رانی جاری رکھ سکتے ہیں۔ تاہم غیر ملکی میڈیا کے مطابق اس بات کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی کہ آیا ایران عملی طور پر ٹول وصول کر رہا ہے یا نہیں، البتہ ایرانی پارلیمنٹ اس تجویز پر غور کر رہی ہے۔
بقائی کے مطابق بعض دوست ممالک کے ذریعے امریکا نے جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات کی درخواست کی، جس پر ایران نے اپنے اصولی مؤقف کے مطابق جواب دیا۔ ایران نے واضح کیا کہ کسی بھی نئی جارحیت کے سنگین نتائج ہوں گے اور اس کی مسلح افواج فوری ردعمل دینے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہیں۔
