ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے انقرہ میں کابینہ اجلاس کے دوران کہا ہے کہ اسرائیل کی جنگ صرف اس کا مسئلہ نہیں بلکہ اس کا خمیازہ پوری دنیا کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق صدر اردوان نے کہا کہ علاقائی امن اور انسانی زندگی کی خاطر نیتن یاہو کی قیادت میں جاری قتل عام کے نیٹ ورک کو فوری طور پر روکا جانا چاہیے، اور ہر ملک کو اس سلسلے میں دلیرانہ اور فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔
صدر اردوان نے واضح کیا کہ ترکی مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران نہایت محتاط اور دانشمندانہ حکمت عملی پر عمل پیرا ہے اور برادرانہ و ہمسایہ تعلقات میں کسی بھی قسم کی دراڑ نہیں آنے دی جائے گی۔ ان کے بقول: “یہ بساط ہمارے لیے بچھائی گئی ہے، لیکن ہم اپنے لیے بنائے گئے جال میں نہیں پھنسیں گے۔ ہم نے آگ کے اس دائرے سے دور رہنے کا فیصلہ کیا ہے۔”
انہوں نے عالمی سطح پر جاری امریکی اور اسرائیلی اقدامات پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امریکا-اسرائیل کی ایران جنگ نے خطے کو لپیٹ میں لے رکھا ہے، جس کے باعث توانائی کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں اور ترکی کی معیشت کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ صدر اردوان نے کہا کہ ان اثرات کو کم کرنے کے لیے ترک حکومت متعدد اقدامات کر رہی ہے تاکہ ملکی معیشت پر جنگ کے منفی اثرات کم سے کم ہوں۔
ماہرین کے مطابق ترک صدر کا بیان خطے میں ترکی کی دانشمندانہ اور محتاط پالیسی کی عکاسی کرتا ہے، جو عالمی کشیدگی کے باوجود اپنے مفادات اور ہمسایہ تعلقات کو نقصان سے بچانے پر مرکوز ہے۔
