عباس عراقچی نے امریکا پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ وہ عالمی قوانین اور اصولوں کو اپنے مفادات کے مطابق استعمال کر رہا ہے، جس سے بین الاقوامی نظام کا توازن بگڑ رہا ہے اور انصاف کے تقاضے متاثر ہو رہے ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق امریکا ایک جانب غزہ میں اسرائیل کی جانب سے جاری ناکہ بندی اور فوجی کارروائیوں کی حمایت کرتا ہے، جبکہ دوسری طرف انسانی امداد کی فراہمی میں بھی رکاوٹیں پیدا کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ غزہ میں شہری شدید مشکلات کا شکار ہیں، لیکن عالمی طاقتیں اس انسانی بحران پر سنجیدگی سے توجہ نہیں دے رہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ جب ایران اپنے دفاع کے تحت آبنائے ہرمز میں اقدامات کرتا ہے تو امریکا اسے تنقید کا نشانہ بناتا ہے، جو کہ واضح تضاد اور دوہرا معیار ہے۔
عباس عراقچی نے زور دے کر کہا کہ امریکا کی نظر میں اسرائیل کی جارحیت کو جائز قرار دیا جاتا ہے، جبکہ اس کے برعکس ایران کے دفاعی اقدامات کو غیر قانونی کہا جاتا ہے، جو کہ سراسر ناانصافی ہے۔
انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ ایسے دوہرے معیار کا نوٹس لے اور ایک منصفانہ اور متوازن عالمی نظام کے قیام کیلئے مؤثر کردار ادا کرے، تاکہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کیا جا سکے اور انسانی بحرانوں کا حل نکالا جا سکے۔

Add A Comment