مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک غیر معمولی اور نازک صورتحال سے دوچار ہے، جہاں ایک طرف علاقائی کشیدگی بڑھ رہی ہے تو دوسری جانب ایک خطرناک قدرتی آفت نے بھی سر اٹھا لیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ایک طاقتور طوفان تیزی سے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور دیگر خلیجی علاقوں کی جانب بڑھ رہا ہے، جس نے حکام اور عوام دونوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔
ماہرین موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ آنے والے دنوں میں شدید بارشوں اور تیز ہواؤں کا سلسلہ شروع ہو سکتا ہے، جس کے دوران ہواؤں کی رفتار 60 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچنے کا امکان ہے، جبکہ حدِ نگاہ بھی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔
سعودی محکمہ موسمیات کے مطابق خاص طور پر ساحلی علاقوں میں صورتحال زیادہ خطرناک ہو سکتی ہے، جہاں سمندر میں طغیانی اور اونچی لہریں پیدا ہونے کا خدشہ ہے، جو 2.5 میٹر سے بھی تجاوز کر سکتی ہیں۔ اس پیشگوئی کے بعد ساحلی آبادی کو الرٹ رہنے اور غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔
دوسری جانب متحدہ عرب امارات میں ممکنہ طوفانی بارشوں کے پیش نظر شہریوں نے پیشگی حفاظتی اقدامات شروع کر دیے ہیں، جن میں گھروں کے باہر ریت کی بوریاں رکھنا اور دروازوں و کھڑکیوں کو پلاسٹک سے ڈھانپنا شامل ہے، تاکہ ممکنہ سیلابی پانی کو گھروں میں داخل ہونے سے روکا جا سکے۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ اس غیر معمولی موسمی صورتحال کے پیش نظر اماراتی محکمہ اوقاف نے بھی ایک اہم ہدایت جاری کی ہے، جس میں شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ شدید بارشوں کے دوران مساجد جانے کے بجائے گھروں میں نماز ادا کریں تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے بچا جا سکے۔ آئمہ کرام کو بھی ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اذان کے بعد اس حوالے سے اعلانات کریں، جبکہ ضرورت پڑنے پر نمازوں کو جمع کر کے ادا کرنے کی اجازت بھی دی گئی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ تمام اقدامات عوام کی جان و مال کے تحفظ کے لیے کیے جا رہے ہیں، جبکہ متعلقہ ادارے مسلسل صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں، کیونکہ خطہ اس وقت بیک وقت سکیورٹی اور موسمی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔
