مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی انتہائی خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے، جہاں ایران کی جانب سے امریکا اور اسرائیل کے خلاف بڑے پیمانے پر حملوں کے دعوے سامنے آئے ہیں۔ مختلف ذرائع کے مطابق خطے کے کئی اہم مقامات کو نشانہ بنایا گیا، جس سے صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق ایران نے کویت میں امریکی تنصیبات پر حملہ کرتے ہوئے 6 ٹیکٹیکل طیاروں کو نشانہ بنایا۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان میں سے 3 طیارے سمندر میں تباہ ہو گئے جبکہ دیگر 3 کو شدید نقصان پہنچا اور ان میں آگ بھڑک اٹھی۔
اسی دوران سعودی عرب میں واقع سلطان ایئربیس پر بھی حملے کی اطلاعات ہیں، جہاں امریکی ری فیولنگ طیاروں کو نقصان پہنچنے اور کم از کم 12 اہلکاروں کے زخمی ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے ’’وعدہ صادق چہارم‘‘ نامی آپریشن کے تحت مزید حملوں کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ دشمن کے خلاف کارروائیوں کی 84 ویں لہر میں دبئی کے ساحلی علاقے اور ایک ہوٹل میں موجود امریکی اہلکاروں کو خودکش ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا گیا، جس میں کئی امریکی فوجیوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ایران نے اسرائیل پر بھی شدید حملے کیے۔ اطلاعات کے مطابق کلسٹر میزائل داغے گئے، جس کے نتیجے میں کم از کم ایک اسرائیلی ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔ روسی میڈیا کا کہنا ہے کہ تل ابیب میں کثیر المنزلہ عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ میزائلوں کی آمد پر خطرے کے سائرن بج اٹھے اور شہریوں کو پناہ گاہوں میں منتقل ہونا پڑا۔
ادھر اسرائیل اور امریکا کی جانب سے بھی ایران پر جوابی کارروائیاں جاری ہیں۔ اطلاعات کے مطابق بوشہر پاور پلانٹ، اخنداب کے واٹر پلانٹ اور تہران میں یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کو نشانہ بنایا گیا، جہاں شدید بمباری کی گئی۔
تاہم ان حملوں اور نقصانات سے متعلق دعوؤں کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق تاحال ممکن نہیں ہو سکی، جبکہ خطے میں صورتحال مسلسل کشیدہ اور غیر یقینی کا شکار ہے۔
