حالیہ دنوں میں ایرانی صدر پیزشکیان کی ایک غیر متوقع اور نمایاں عوامی کارروائی سوشل میڈیا اور روایتی میڈیا دونوں میں زیرِ بحث رہی ہے۔ صدر پیزشکیان نے ایک مقامی گروسری اسٹور کا دورہ کیا، جس کا مقصد صرف روزمرہ کی سرگرمیوں کا جائزہ لینا اور عوامی معاملات سے براہِ راست واقفیت حاصل کرنا بتایا گیا۔ اس وزٹ کا مختصر سا ویڈیو کلپ، جو صرف ایک منٹ اور چودہ سیکنڈ پر مشتمل ہے، کافی توجہ کا مرکز بن گیا اور عوامی اور سیاسی حلقوں میں اس کے مختلف پہلوؤں پر تجزیے شروع ہو گئے۔
ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ صدر پیزشکیان اسٹور کے اندر بغیر کسی رسمی ماحول کے، بے تکلف انداز میں چل رہے ہیں۔ وہ ہر آئٹم یا حصے کی طرف جاتے ہوئے عام شہریوں سے ہاتھ ملاتے ہیں اور مختصر گفتگو کرتے نظر آتے ہیں۔ یہ روش اس بات کی علامت ہے کہ صدر صرف رسمی یا سرکاری ماحول میں نظر آنے والے شخصیت نہیں بلکہ عوام کے ساتھ براہِ راست تعلق قائم کرنے والے رہنما بھی ہیں۔
ماہرین کے مطابق اس وزٹ کی اہمیت اقتصادی حالات اور معاشرتی مسائل کے تناظر میں اور بھی بڑھ جاتی ہے، کیونکہ گروسری اسٹور عوام کی روزمرہ ضروریات کا اہم ترین مرکز ہوتے ہیں۔ اسٹور میں دستیاب مصنوعات، قیمتیں اور صارفین کے رویے، صدر کے لیے ایک اہم معلوماتی ذریعہ فراہم کرتے ہیں، جس سے وہ ملکی معیشت اور عوامی ضروریات کے حقیقی حالات کا مشاہدہ کر سکتے ہیں۔
ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ صدر نے اسٹور کے مختلف حصوں کا بغور جائزہ لیا، چاہے وہ تازہ سبزیوں اور پھلوں کا سیکشن ہو یا پیک شدہ اشیاء اور گھریلو ضروریات کا حصہ۔ ہر سیکشن میں انہوں نے شہریوں سے بات چیت کی، ہاتھ ملایا اور ان کے خیالات جاننے کی کوشش کی۔ یہ سب اقدامات نہ صرف عوامی تعلقات کو مضبوط کرتے ہیں بلکہ عوام میں ایک احساس پیدا کرتے ہیں کہ صدر ان کے مسائل سے واقف ہیں اور ان کے روزمرہ کے تجربات کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ماہرین سیاسیات کے مطابق اس طرح کے وزٹ علامتی طور پر بھی بہت معنی رکھتے ہیں۔ ایک مختصر، غیر رسمی ملاقات یا عوامی ملاقات عوام کے ذہن میں رہنمائی اور ہمدردی کا تصور پیدا کرتی ہے۔ موجودہ حالات میں، جہاں عام شہری مہنگائی، ضروری اشیاء کی قلت اور اقتصادی دباؤ کے مسائل سے دوچار ہیں، وہاں صدر کا ذاتی طور پر اسٹور کا دورہ یہ پیغام دیتا ہے کہ حکومت عوام کے مسائل سے بخوبی آگاہ ہے اور ان کی حالت کو سمجھنے کی کوشش کر رہی ہے۔
ویڈیو میں صدر کے اسٹور کے اندر سادہ اور آزادانہ انداز کو بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ وہ اپنے ساتھ بڑے پروٹوکول یا سیکورٹی کے دستے کے بغیر اسٹور میں موجود ہیں، جس سے شہریوں کو براہِ راست بات چیت کا موقع مل رہا ہے۔ لوگ حیرت اور دلچسپی کے ساتھ ان کے ہاتھ ملانے یا دیکھنے کی کوشش کر رہے ہیں، اور صدر کی سادہ حرکتیں عوام کے لیے سکون اور دوستانہ رویہ ظاہر کرتی ہیں۔
اس وزٹ کی میڈیا اور سوشل میڈیا پر بہت پذیرائی ہوئی۔ صارفین اور ویورز نے ویڈیو کو بڑے پیمانے پر شیئر کیا اور صدر کے غیر رسمی انداز کی تعریف کی۔ بعض مبصرین نے اسے ہمدردی اور عوامی وابستگی کی مثبت علامت قرار دیا، جبکہ کچھ نے اسے سیاسی حکمت عملی کے طور پر بھی دیکھا، تاکہ عوام میں حکومت کے متعلق اعتماد برقرار رہے۔
اس وزٹ کے انتخاب میں حکمت عملی بھی شامل تھی۔ اسٹور کے مقام، وقت اور شہریوں سے ملاقات کے انداز کو اس طرح ترتیب دیا گیا کہ وہ کاروباری سرگرمیوں میں خلل ڈالے بغیر قدرتی اور بامعنی لگے۔ صدر کی اس حرکت میں عوامی تعلقات اور عملی انتظامات دونوں کی سمجھداری جھلکتی ہے۔
خلاصہ یہ کہ ایرانی صدر پیزشکیان کا گروسری اسٹور کا یہ مختصر وزٹ، باوجود صرف ایک منٹ اور چودہ سیکنڈ کے، جدید قیادت کے انداز کی ایک مکمل تصویر پیش کرتا ہے۔ ویڈیو میں صدر کی عوام سے براہِ راست ملاقات، دھیما لیکن بامعنی رویہ، اور اسٹور کے مختلف حصوں کا جائزہ ان کی قیادت میں مشاہداتی اور ہمدردانہ پہلوؤں کی نشاندہی کرتا ہے۔
ماہرین کے مطابق ایسے وزٹ عوام میں یقین اور اعتماد پیدا کرنے کے لیے انتہائی مؤثر ہیں۔ ہاتھ ملانا، مختصر گفتگو اور دھیما مشاہدہ عوامی سطح پر یہ پیغام دیتے ہیں کہ صدر عوامی زندگی کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں اور ان کی روزمرہ کی مشکلات سے واقف ہیں۔ ایران کے موجودہ معاشی حالات میں یہ خصوصیت زیادہ اہم ہو جاتی ہے۔
