پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے امریکہ کے تقریباً 70 کروڑ ڈالر مالیت کے ایک جدید فضائی نگرانی طیارے کو صرف 20 ہزار ڈالر مالیت کے ڈرون سے نشانہ بنا کر تباہ کر دیا۔
ایرانی بیان کے مطابق نشانہ بننے والا طیارہ E-3 Sentry AWACS تھا، جو جدید ریڈار اور فضائی نگرانی کی صلاحیتوں کے باعث جنگی حکمتِ عملی میں انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔
پاسدارانِ انقلاب کے مطابق اس طیارے کو Shahed-136 drone کے ذریعے نشانہ بنایا گیا، جو کم لاگت کے باوجود ہدف کو مؤثر انداز میں تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ حملے کے وقت طیارہ ایرانی کارروائیوں سے بچنے کی کوشش کر رہا تھا، تاہم ڈرون نے اسے کامیابی سے نشانہ بنا لیا۔ مزید دعویٰ کیا گیا کہ اس واقعے میں قریبی دیگر طیاروں کو بھی نقصان پہنچا۔
تاہم اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی، جبکہ امریکی حکام کی جانب سے بھی تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ دعویٰ درست ثابت ہوتا ہے تو یہ جدید جنگی حکمتِ عملی میں ایک بڑی تبدیلی کی علامت ہو سکتا ہے، جہاں کم لاگت ڈرونز مہنگے اور جدید فضائی اثاثوں کے لیے سنگین خطرہ بنتے جا رہے ہیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے، اور خطہ ایک نازک مرحلے سے گزر رہا ہے۔
